اہم خبریں

بیس سال کےبعد بڑا فیصلہ، جا نئے کیا

اسلام آباد (اے بی این نیوز    ) پاکستان ریلوے نے صحافیوں کے لیے گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے جاری سفری رعایت میں نمایاں کمی کرتے ہوئے 80 فیصد رعایت کو کم کر کے 50 فیصد کر دیا ہے جبکہ بلا محدود سفری سہولت کو بھی محدود کرتے ہوئے سالانہ صرف 10 ٹکٹ تک کر دیا گیا ہے، اس حوالے سے پاکستان ریلوے ہیڈکوارٹر لاہور کے چیف کمرشل مینیجر آفس سے 19 مارچ 2026 کو جاری کردہ باضابطہ مراسلے میں تصدیق کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر ریلوے کی ہدایت پر تمام رعایتوں پر 50 فیصد کی حد مقرر کی گئی ہے اور صحافیوں کے لیے پہلے سے جاری 80 فیصد رعایت کو کم کر کے 50 فیصد کر دیا گیا ہے جبکہ اسے سالانہ 10 سفروں تک محدود کر دیا گیا ہے، مزید برآں صحافیوں کی اہلیہ کے لیے دی گئی 50 فیصد رعایت بھی فوری طور پر ختم کر دی گئی ہے۔

یہ سہولت پہلی مرتبہ 21 جون 2006 کو اس وقت کے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے متعارف کروائی تھی جس کے تحت صحافیوں کو 80 فیصد رعایت اور متعدد کیسز میں بلا محدود سفری سہولت فراہم کی گئی تھی، یہ پالیسی تقریباً 20 سال تک جاری رہی اور اس دوران ہزاروں صحافیوں نے ملک بھر میں رپورٹنگ کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا، تاہم حالیہ فیصلے کے بعد صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور اسے میڈیا کے لیے مشکلات پیدا کرنے والا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ بغیر کسی پیشگی مشاورت کے نافذ کیا گیا جس پر صحافتی تنظیموں نے اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس اقدام سے فیلڈ رپورٹنگ متاثر ہو گی، خصوصاً فری لانس اور علاقائی صحافیوں کے لیے سفر مزید مہنگا اور مشکل ہو جائے گا، صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ 10 ٹکٹ سالانہ کسی بھی متحرک صحافی کے لیے ناکافی ہیں اور اس سے یہ سہولت عملاً ختم ہو کر رہ گئی ہے۔

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام موجودہ مالی بحران اور حکومتی کفایت شعاری مہم کے تحت کیا گیا ہے تاکہ کمرشل آپریشن کو بہتر بنایا جا سکے اور تمام رعایتی کیٹیگریز میں یکساں نظام نافذ کیا جا سکے، تاہم اسی پالیسی کے تحت دیگر رعایتوں بشمول سینئر سٹیزنز اور سپورٹس پرسنز کے لیے بھی سختی کیے جانے کی اطلاعات ہیں جس سے وسیع سطح پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ صحافتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے سابقہ 80 فیصد رعایت بحال کرے یا کم از کم سفری حد میں اضافہ کیا جائے تاکہ میڈیا سے وابستہ افراد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کر سکیں۔

مزید پڑھیں :ٹک ٹاکر ڈاکٹر فضیلہ عباسی کے حق میں فیصلہ آگیا،جا نئے تفصیل

متعلقہ خبریں