اسلام آباد ( اے بی این نیوز ) پٹرولیم قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے بعد حکومت نے مارکیٹ کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کرتے ہوئے مانیٹرنگ مزید سخت کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، وزیر خزانہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں ملک بھر میں سپلائی صورتحال اور ذخائر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی سپلائی مجموعی طور پر مستحکم ہے اور ڈیزل کے ذخائر تقریباً 25 دن جبکہ خام تیل کے ذخائر 12 دن کیلئے کافی ہیں، اسی طرح پٹرول کی دستیابی موجودہ طلب کو پورا کرنے کیلئے مناسب سطح پر موجود ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی کہ سپلائی چین میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں اور نظام معمول کے مطابق چل رہا ہے۔
اجلاس کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے سخت نگرانی ضروری ہے، اسی مقصد کیلئے ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مارکیٹ کی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی کہ پیٹرول پمپس سے بروقت اور درست ڈیٹا کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔
بریفنگ میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملک بھر کے ہزاروں پیٹرول پمپس سے ڈیٹا رپورٹنگ توقعات کے مطابق نہیں ہو رہی، جس پر کمیٹی نے اوگرا کو ہدایت دی کہ ڈیٹا مانیٹرنگ کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی مشترکہ ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو پمپس پر اسٹاک اور ڈیٹا انٹری کے عمل کی نگرانی کریں گی۔
اجلاس میں گیس کی صورتحال اور اس کی تقسیم پر بھی غور کیا گیا، خاص طور پر گھریلو اور پاور سیکٹر میں گیس کی فراہمی اور ایل پی جی پر بڑھتے انحصار کے تناظر میں گیس مینجمنٹ کے امور زیر بحث آئے۔ حکام کے مطابق حکومت کی ترجیح مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا، شفافیت کو یقینی بنانا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ ہے۔
مزید پڑھیں :جیسا کرو گے ویسا بھرو گے، ایران کا امریکہ کو منہ توڑ جواب















