اہم خبریں

ٹرا نسپوٹرز مالکان کی عیش،ماہانہ بنیاد پر لاکھوں روپے ملیں گے،جا نئے کیسے

کراچی ( اےبی این نیوز      )وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کو روکنے کیلئے جامع سبسڈی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بس مالکان کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کرے گی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر بس مالک کو ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں روپے تک ادائیگی کی جائے گی، جبکہ اضافی سبسڈی بھی دی جائے گی تاکہ ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹر سٹی بسوں کیلئے الگ فارمولا تیار کیا جا رہا ہے تاکہ طویل فاصلے کے سفر کرنے والے مسافروں کو بھی ریلیف مل سکے۔

مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سبسڈی صرف انہی ٹرانسپورٹرز کو دی جائے گی جو حکومت کی طے کردہ شرائط پر عمل کریں گے اور کرایوں میں اضافہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ عوام کو ریلیف ملے اور ٹرانسپورٹ کے کرایے موجودہ سطح پر برقرار رہیں۔انہوں نے بتایا کہ پیسنجر بسوں اور ٹرک مالکان کو ماہانہ ادائیگیاں وفاقی حکومت کے تعاون سے کی جائیں گی، جبکہ صوبائی اور وفاقی سطح پر مل کر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو براہ راست اس سبسڈی سے فائدہ نہیں ملے گا، تاہم مجموعی طور پر عوامی سہولت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث فریٹ چارجز، انشورنس اور دیگر اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض ٹرانسپورٹرز اپنی مرضی سے اضافی چارجز وصول کرتے ہیں، جسے کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ہر تین ماہ بعد اپنے معاشی اہداف کا جائزہ دینا ہوتا ہے، اور اگر یہ اہداف پورے نہ ہوں تو پروگرام متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالیاتی دباؤ کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کو ترجیح دی ہے۔

مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ اس سبسڈی پروگرام کے تحت اگلے تین ماہ میں سندھ کو تقریباً 55 ارب روپے اضافی خرچ کرنا پڑیں گے، تاہم حکومت اس بوجھ کو برداشت کرتے ہوئے عوامی مفاد کو مقدم رکھ رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے صنعتیں بند کرنے کی تجویز کو مسترد کیا کیونکہ اس سے مزدور طبقے کی روزی متاثر ہو سکتی تھی۔ حکومتی اجلاسوں میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد متوازن اور محتاط فیصلے کیے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں، فریٹ چارجز اور دیگر اخراجات کے مکمل اعداد و شمار عوام کے سامنے ہونے چاہئیں تاکہ اعتماد بحال ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو بھی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر وضاحت دینی چاہیے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ ایک ہفتے میں مزید مشاورت کے بعد اس پالیسی کو مزید بہتر بنانے کیلئے نئے اقدامات بھی سامنے لائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں :اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ فری

متعلقہ خبریں