اہم خبریں

پنجاب میں تعلیمی نظام زبوں حالی کا شکار، لاکھوں بچے سکولوں سے باہر

راولپنڈی ( اے بی این نیوز    )پنجاب میں تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہوتا جا رہا ہے، جہاں پچاس لاکھ سے زائد بچے اس وقت سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ مستقبل میں معاشرتی و معاشی مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ گزشتہ برس بھی تعلیمی اداروں کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتر رہی، جس کی بنیادی وجہ غیر مستقل پالیسیز اور بار بار تعلیمی اداروں کی بندش رہی۔

تعلیمی سال کے دوران مختلف وجوہات جیسے خراب موسم، شدید سردی، سیکیورٹی خدشات، علاقائی کشیدگی، اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جیسے عوامل کو بنیاد بنا کر سکولز کو بارہا بند کیا گیا۔ ان مسلسل تعطیلات کے باعث طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں اور تعلیمی معیار میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔

جب بچے طویل عرصے تک سکولوں سے دور رہتے ہیں تو ان کا تعلیم سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بچے تعلیم ادھوری چھوڑ کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں اور کم عمری میں ہی مزدوری شروع کر دیتے ہیں۔ ایک بار جب یہ بچے معاشی ذمہ داریوں میں الجھ جاتے ہیں تو ان کا دوبارہ تعلیم کی طرف لوٹنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور غیر سنجیدہ رویہ اس بحران کی بڑی وجہ ہے۔ تعلیمی پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان، بجٹ کی کمی، اور ہنگامی بنیادوں پر فیصلے اس نظام کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر قوم کو جاہل بنانے میں ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ صرف حکومت کی ناکامی ہے یا بحیثیت قوم ہم سب بھی اس میں برابر کے شریک ہیں؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر جامع اور مستقل تعلیمی اصلاحات متعارف کروائے، سکولوں کی بلاوجہ بندش کو روکے، اور بچوں کو تعلیم کی طرف واپس لانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ بصورت دیگر، آنے والے وقت میں یہ تعلیمی بحران ایک بڑے قومی المیے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

مزید پڑھیں :اپ ڈیٹ ،سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ، جا نئے فی تولہ کتنے کا ہو گیا

متعلقہ خبریں