ایران(اے بی این نیوز)ایران میں احتجاجی مظاہروں اور امریکی صدر کی جانب سے مظاہرین کی مدد کے لیے مداخلت کی دھمکیوں کے باعث بڑھتی کشیدگی کے دوران غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں میں ایران میں مداخلت کرسکتا ہے۔
خطے میں تیزی سے بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا بھی انخلا شروع کر دیا ہے جسے ممکنہ امریکی حملے کی واضح پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث خطے کے اہم فوجی اڈوں سے کچھ عملہ واپس بلایا جا رہا ہے، اسی تناظر میں برطانیہ بھی قطر میں واقع ایک فضائی اڈے سے اپنے بعض اہلکار نکال رہا ہے۔
ایک مغربی فوجی عہدیدار نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ’تمام اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی حملہ جلد ہوسکتا ہے‘ـ
دو یورپی عہدیداروں نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ہو سکتی ہے جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے اگرچہ اس مداخلت کے دائرہ کار اور وقت کے بارے میں حتمی وضاحت موجود نہیں۔
قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے، العدید ائیر بیس، سے عملے میں کمی ’موجودہ علاقائی کشیدگی‘ کے باعث کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟















