تہران (اے بی این نیوز) مقتول ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے تین بیٹے اتوار کو تہران میں ہونے والی نمازِ جنازہ میں اپنے والد کے تابوت کے ساتھ نظر آئے، تاہم ان کے متوقع جانشین سمجھے جانے والے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای تقریب میں موجود نہیں تھے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق مصطفیٰ، میثم اور مسعود خامنہ ای نے تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ نمازِ جنازہ ادا کی، جہاں آیت اللہ خامنہ ای کے تابوت رکھے گئے تھے۔
Three sons of slain Iranian leader Ayatollah Ali Khamenei prayed beside his coffin, but Mojtaba, the son who succeeded him as Iran's supreme leader, did not make an appearance https://t.co/2gnyAzlAhQ pic.twitter.com/lKjLaw4cwY
— Reuters (@Reuters) July 5, 2026
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے خاندان کے متعدد افراد کے ساتھ اس فضائی حملے میں جاں بحق ہوئے تھے جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران کیا گیا۔ اس تنازع کے بعد کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں خطے بھر میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، جبکہ بعد ازاں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا۔
ایرانی حکومت نے آیت اللہ خامنہ ای کی یاد میں ایک ہفتے پر محیط اجتماعی سوگ اور جنازے کی تقریبات کا اہتمام کیا ہے۔ ان تقریبات کے دوران ان کی باقیات کو عراق کے مقدس شیعہ مذہبی مقامات پر بھی لے جایا جائے گا، جہاں خصوصی دعائیہ تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی جنازے میں عدم موجودگی نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں توجہ حاصل کی ہے، تاہم ان کی غیر حاضری کی سرکاری طور پر کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔
مزید پڑھیں: شہری بدستور جنگ سے پہلے کی قیمتوں سے مہنگا پیٹرول اور ڈیزل خریدنے پر مجبور















