اہم خبریں

ایپکس کمیٹی اجلاس ،وزیراعظم شہبازشریف کاشہدا ء کیلئے 20 لاکھ فی کس ، زخمیوں کیلئے 5 لاکھ روپے کا اعلان

پشاور(نیوزڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس،وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بہتر پاکستان کے لیے وفاق، صوبے اور سیاسی جماعتیں مل کر دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔پولیس لائنز خودکش دھماکے پر وزیراعظم کی زیر صدارت گورنر ہاؤس پشاور میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں آرمی چیف، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر کے علاوہ وفاقی وزرا اور قومی سیاسی قائدین نے شرکت کی، تاہم اجلاس میں تحریک انصاف کی جانب سے کوئی نمائندی شریک نہیں ہوا۔اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا پولیس لائن میں افسوسناک واقعہ ہوا، اے پی ایس واقعے کے بعد یہ ایک اندوہناک واقعہ ہے، 85 نمازی شہید ہوئے۔ان کا کہنا تھا ہمیں حقائق تسلیم کرنا ہوں گے، پوری قوم اشک بار ہے، چند سال پہلے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے بعد یہ واقعہ کیسے رونما ہوا، پوری قوم سوچ رہی ہے کہ کس طرح مستقبل میں اس ناسور پر قابو پایا جائے۔انہوں نے کہا کہ پشاور واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر بے جا الزام تراشی اور تنقید افسوسناک ہے، یہ کہنا کہ پشاور دھماکا ڈرون حملہ تھا انتہائی نامناسب تھا۔وزیراعظم نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس بلانے کا مقصد 30 جنوری کو ہونے والے پشاور دھماکے کے متاثرین لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور دھماکے کا حملہ آور چیک پوسٹ سے گزر کر مسجد داخل ہوا۔ پوری قوم پشاو ر دھماکے پر اشک بار ہے۔ قوم سوال کررہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد یہ واقعہ کیسے رونما ہوا؟۔وزیراعظم کا کہنا تھا وفاق اور صوبے مل کر دہشتگردوں کا مقابلہ کریں، تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اختلافات بھلاکر دہشتگردوں کا مقابلہ کریں، دہشتگردی پر قابو پائیں گے، تمام وسائل اس مقصد پر لگائیں گے، ہمیں تمام اختلافات بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا اور دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا، دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔شہباز شریف کا کہنا تھا آج ہمیں حق بات کرنا ہوگی، 417 ارب روپے وفاق نے خیبرپختونخوا کو دیے ہیں، پوچھنا چاہتا ہوں کہ 417 ارب روپے کہاں گئے، سی ٹی ڈی پنجاب 3 ارب میں بنی، یہاں 4 ارب میں بنالیتے، کے پی کے پاس 417 ارب روپے تھے وہ دس سیف سٹی بناتے لیکن ایک بھی نہ بنی۔ان کا کہنا تھا قوم کو جواب دینا ہو گا کہ دہشتگرد یہاں کس طرح آئے اور کون انہیں یہاں لایا، ملک کی تقدیر بہتر کرنے کے لیے آپ اپنے لوگوں سے ہاتھ ملانے کے لیے تیار نہیں اور ان لوگوں کو پاکستان میں سیٹل کرنے کے لیے لایا گیا، اس طرح کا دوہرا معیار نہیں چلے گا۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور پولیس لائنز دھماکے میں شہید ہونے والوں کے لیے 20 لاکھ روپے فی کس جبکہ زخمیوں کے لیے 5 لاکھ روپے کا اعلان کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد ہربار طعنہ ملتاہے کہ وفاق ساتھ نہیں دے رہا۔ 2010سے اب تک خیبرپختونخوا حکومت کو 417ارب روپے دیے جاچکے ہیں۔ دہشت گردی کےخاتمے تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے ۔ کسی پر تنقید نہیں کررہا ،آج ہمیں حق کی بات کہناپڑ ے گی ۔ ہمارا سوال ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو دیے گئے وہ 417ارب روپے کہاں ہیں؟۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اگر کوئی شہید ہوتا ہے تووہ پاکستانی پاسپورٹ ہے۔ چیلنجز کے باوجود دہشت گردی پر قابو پانے کی کوشش کریں گے ۔ اختلافات بھلا کر ہم نے مل کر قوم کو یکجا کرنا ہے۔ ہمیں ہر طرح کے اختلافات کو ایک طرف رکھنا چاہیے۔ دہشت گردوں کا نہ کوئی دین ہے نہ ایمان ہے۔ چاروں صوبے ملک کی اہم اکائیاں ہیں۔قبل ازیں وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سوشل میڈیا پر جاری بیان مین بتایا کہ اپیکس کمیٹی کا اجلاس گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں ہو گا جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز، پولیس، رینجرز اور حساس اداروں کے اعلی افسران شریک ہوں گے۔اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات زیر غور آئیں گے۔

متعلقہ خبریں