اسلام آباد ( اے بی این نیوز )وفاقی وزیر خزانہ نے ارکان اسمبلی سے ان کے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور پالیسوں کا از سر نو جائزہ کا کہا۔ یہ یقین دہانی وفاقی وزیر خزانہ نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے اراکین قومی اسمبلیکیسابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ملاقات کے دوران کرا ئی اس موقع پر اسد قیصر نے کہا کہ
سابقہ فاٹا گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ کی زد میں ہے۔
ریاست نے 860 ارب دینے کا وعدہ کیا جو ابھی تک 103 ارب دئیے گئے۔ انضمام کے وقت وفاق کی طرف سے کیے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ بارڈر ایریا پر تجارت کے لیے مناسب ماحول اور یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان علاقوں میں کوئی ریگولر اکنامی نہیں۔
نیز ملاقات میں ضم شدہ اضلاع، ملاکنڈ ڈویژن کے چمبر آف کامرس کے نمائندوں کی خصوصی شرکت،ملاقات میں قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں، امن و امان اور افغانستان کے تجارتی راستے کھولنے پر بات چیت۔ خیبرپختونخوا میں نئے فوجی آپریشن پر تحفظات کا اظہار ۔
قبائلی علاقوں میں زندگی معمول پر آئی نہیں کہ دوبارہ سے جنگی ماحول بننے جا رہا ہے۔ فاٹا کا انضمام کرا کر ابھی تک این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں نے حصہ نہیں دیا
قبائلی اضلاع کے اراکین پارلیمنٹ نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ملز اور کارخانوں پر ٹیکس لگانا ظلم ہے،ا راکین پارلیمنٹ نے کہا کہ
انضمام کے وقت فاٹا کو ایک مدت کے لئے ٹیکس سے بری الزمہ قرار دیا گیا، اسی سٹیٹس کو برقرار رکھا جائے.
مزید پڑھیں :آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے میں ملنا چاہتاہوں تا کہ آپریشن پر بات کرسکیں،علی امین گنڈاپور















