سینیٹ اجلاس میں سینیٹر عون عباسی بپی نے سرائیکی علاقوں میں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے سے متعلق دستور پاکستان میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کر دیا۔ سینیٹر عون عباس نے کہا کہ
سرائیکی صوبے سے متعلق ایوان کی قراداد پر بارہ سال سے عمل نہیں ہو سکا۔
چئیرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں خود سرائیکی صوبے کے حق میں ہوں۔ بارہ سال التواء سے متعلق میں آپ کو حقیقت بتا دوں گا۔ قانونی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ سرائیکی صوبے کے قیام کے لئے سینیٹ میں ہم نے دو تہائی اکثریت سے قراداد منظور کرائی تھی۔اس وقت قومی اسمبلی میں قراداد منظور نہیں ہو سکی تھی کیونکہ وہاں ہماری اکثریت نہیں تھی۔
میں جنوبی پنجاب صوبہ سیکرٹریٹ کی بجائے الگ سرائیکی صوبے کے حق میں ہوں۔
وزیر قانون نے کہا کہ جب پی ٹی ائی کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی اور انکی حکومت بھی تھی تو اس وقت سرائیکی صوبہ کیوں نہیں بنایا گیا۔ سرائیکی صوبے کے نام پر سیاست نہ کی جائے۔
میں نے بحیثیت وزیر قانون بل کی مخالفت کی بجائے متعلقہ قائمہ کمیٹی بھجوانے کی حمایت کی ہے۔ بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔
قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کیلئے آج تک کا وقت تھا،وفاقی وزیرقانون ہم نے مقررہ وقت میں کمیٹیوں کیلئے فارمولا اور دیگر ضروری امور نمٹائے،وزیرقانون اپوزیشن نے بھی قائمہ کمیٹیوں کیلئےاپنے نام دیےتھے،اعظم نذیرتارڑاپوزیشن کے ساتھ 95 فیصد امور پر اتفاق رائے طے پا گیا تھا، وزیر قانون نے کہا کہ ہماری طرف سے ہر قسم کا تعاون موجود ہے،اعظم نذیرتارڑقائمہ کمیٹیوں کے ارکان کیلئے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف بیٹھ کر فیصلہ کر لیں۔
مزید پڑھیں :فیروزوالہ،جوتے بنانے والی فیکٹری میں آگ لگ گئی،دس مزدور پھنس گے















