اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں 996میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے والا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اپنی سالانہ انسپیکشن کے سبب10جنوری2024سے بجلی کی پیداوار بند کرے دے گا بتایا گیا ہے کہ موسم سرما کے اس دورانیہ میں پاکستان میں دریاوں اور ڈیموں میں پانی کی آمدن کم رہتی ہے جس کی وجہ سے ڈیموں سے بجلی کی پیداوار کیلئے پانی کااخراج نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے ۔ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی3.5کلو میٹر طویل پانی کی سرنگوں کا معائینہ کیا جائے گا اور اگرضروری ہوا تو ان کی صفائی اور ان میں جمع ہونے والی مٹی (سلٹ) کو صاف کیا جائے گا تاکہ جب ڈیموں سے بجلی کی پیداوار کیلئے اس ٹنل میں پاکستان کا اخراج ایکبارپھر شروع کیا جائے تو پانی کی روانی پوری طرح سے جاری رہے اور بجلی کی بھرپور پیداوارحاصل کی جاسکے۔بتایا گیا ہے کہ واپڈا اور دیگر اداروں کے ملکی ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی انسپیکشن بھی اسی عرصے میں کی جائے گی جس سے ہائیڈل بجلی کی پیداوار کم ہونے سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھ سکتا ہے یا جہاں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی وہاں یہ لوڈ شیڈنگ ہو سکتی ہے۔















