دبئی(نیوزڈیسک)ایشیا کپ کی میزبانی پاکستان کے نام تاہم بھارت اپنی ٹیم کو نہ بھیجنے کے موقف پر تاحال ڈٹا ہوا ہے ،پاکستان کرکٹ بورڈ بھی واضح کر چکا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ بھی اکتوبر، نومبر میں شیڈول ون ڈے ورلڈکپ کیلئے گرین شرٹس کو بھارت نہیں بھیجے گا۔مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی ان دنوں یو اے ای آئے ہوئے ہیں، جے شا کی آمد پر ان سے تبادلہ خیال کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا مگر وہ نہیں آئے۔ذرائع نے بتایا کہ نجم سیٹھی کی اے سی سی کے توسیتھ پریرا سے ملاقات ہوئی جس میں انھوں نے جلد میٹنگ طلب کرنے کا مطالبہ کیا،پی سی بی اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے کہ ایونٹ پاکستان میں ہوگا اور اگر بھارتی ٹیم نہ آئی تو وہاں ورلڈکپ کا بھی بائیکاٹ کیا جائے گا۔
گزشتہ دنوں سیکرٹری بی سی سی آئی و صدر اے سی سی جے شا نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ایشیئن کرکٹ کا پروگرام جاری کیا جس میں ایشیا کپ کے میزبان کا نام ہی درج نہ تھا،نجم سیٹھی نے اس کا سخت ردعمل دیتے ہوئے انھیں طنزیہ جواب دیا تھا، بعد میں اے سی سی نے شیڈول میں عدم مشاورت کا پاکستانی دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔بعض حلقے یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ ایشیائی ایونٹ کی میزبانی یو اے ای میں کر لی جائے مگر پی سی بی اس کے حق میں نہیں،حکام کا خیال ہے کہ اگر ایسا کیا تو چیمپئنز ٹرافی کے انعقاد میں بھی مشکل پیش آئے گی۔














