اہم خبریں

پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا مستقبل بہت روشن ہے،محمدعلی

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا مستقبل بہت روشن ہے کیونکہ ملک توانائی کے روایتی ذرائع کے ماحولیاتی اثرات کو کم کرتے ہوئے اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وافر سورج کی روشنی اور ہوا کے وسائل کے ساتھ، پاکستان میں شمسی اور ہوا سے توانائی پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے،یہ بات انفارمیشن سروسز اکیڈمی اور الائنس فار گڈ گورننس فاؤنڈیشن کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقدہ ایک تقریب میں کہی گئی جس کا اہتمام آ ئی ایس اے آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ سیشن میں شرکت کرنے والوں میں پی پی آئی بی کے ایم ڈی شاہ جہاں مرزا، ماہر توانائی انجینئر اسد محمود، قابل تجدید توانائی کے وسائل سے عرفان مرزا، ڈائریکٹر برج فیکٹر اشرف رانا، ماہر توانائی ڈاکٹر عرفان یوسف، ماہر معاشیات ڈاکٹر نور فاطمہ، REAP سے کرنل طارق خٹک۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ISA ڈاکٹر طارق خان، سول سوسائٹی کے نمائندگان،طلباء، اساتذہ، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندے شامل تھے۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر توانائی محمد علی تھے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوزیر توانائی محمد علی کا کہنا تھاکہ بین الاقوامی تعاون اور سرمایہ کاری کے ساتھ مل رینوایبل انرجی کا حصہ بڑھانے کے لیے حکومت کا عزم ایک پائیدار توانائی کے مستقبل کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ (AEDB) جیسے اقدامات اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے مراعات کا اعلان اور ایسی سازگار پالیسوں کا نفاذ اس منتقلی کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی کی ترقی اور لاگت میں کمی آتی جارہی ہے، توقع ہے کہ شمسی اور ہوا سے بجلی بنانے کے عمل میں تیزی آئے گی۔رینیوایبل انرجی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا مستقبل صاف ستھرے، زیادہ پائیدار اور لچکدار توانائی کے منظر نامے کی جانب ایک اہم قدم کی نمائندگی کرتا ہے۔دیگر مقررین نے بھی پاکستان کے لیے قابل تجدید توانائی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

متعلقہ خبریں