اسلام آباد( اے بی این نیوز) ایک جانب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، دوسری جانب ملک میں تمباکو مصنوعات کی تیاری اور فروخت سے وابستہ بعض مقامی کمپنیوں پر قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق خیبر ٹوبیکو کمپنی کی جانب سے تمباکو مصنوعات کی تشہیر اور مارکیٹنگ کے حوالے سے ملکی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر ٹوبیکو کمپنی کافی سالوں سے اپنے سگریٹ برانڈز کی غیر قانونی تشہیر میں ملوث ہے حالانکہ امتناعِ تمباکو نوشی اور غیر تمباکو نوش افراد کے تحفظِ صحت آرڈیننس 2002 کے تحت ایسی تشہیری سرگرمیاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ قومی صحت کے قواعد و ضوابط کے تحت تمباکو مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے صارفین کو نقد انعامات، کیش پرائزز، تحائف اور مختلف تشہیری مہمات کے ذریعے راغب کرنا بھی ممنوع ہے، تاہم مبینہ طور پر خیبر ٹوبیکو کمپنی ان ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تشہیری مہم کر رہی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کمپنی نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی کی جانب راغب کرنے کے لیے غیر قانونی تشہیر کر رہی ہے، جس سے انسداد تمباکو نوشی کی قومی پالیسی اور صحت عامہ کے مقاصد متاثر ہو رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمپنی کی جانب سے قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود کبھی بھی متعلقہ حکومتی اداروں کی جانب سے کوئ کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ بعض حلقوں کا الزام ہے کہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث ریگولیٹری ادارے خیبر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف سخت کارروائی سے گریز کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب خیبر ٹوبیکو کمپنی پر اربوں روپے مالیت کی مبینہ ٹیکس چوری کی بھی تفصیلات سامنے آتی رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر ماضی میں خیبر ٹوبیکو کمپنی کے خلاف متعدد کارروائیاں کر چکا ہے۔زرائع کا مزید کہنا ہے کہ بعض کارروائیوں کے دوران کمپنی سے منسلک اربوں روپے مالیت کا خام مال بھی ضبط کیا جا چکا ہے۔زرائع کے مطابق خیبر ٹوبیکو کمپنی کا تعلق سیمسنز گروپ سے بتایا جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر ضروری ہے کہ تمباکو مصنوعات کی تشہیر، فروخت اور ٹیکس قوانین پر یکساں اور بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ نوجوان نسل کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کا سدباب کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس میں نمایا ں کمی کی سفارش















