اہم خبریں

اوآئی سی یاسین ملک کی زندگی بچانے کیلئے آگے آئے،مشعال حسین ملک

جدہ(نیوزڈیسک) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے انسانی حقوق مشعال حسین ملک نے او آئی سی کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے بھارت میں قید شوہر یاسین ملک کی زندگی اور تمام مظلوم کشمیریوں اور فلسطینیوں کی زندگیاں بچانے کے لیے عملی اقدامات کرے، ہندوتوا کے ذریعے دہشت گردی پھیلائی جا رہی ہے۔ جنیوا معاہدے کی کھلی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ اس معاملے میں صرف مذمت کافی نہیں،امن افواج کہاں ہیں؟ دنیا میں مذہبی ہم آہنگی کے قائدین کو آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا چاہیے،فلسطین پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہے۔ ہر کوئی خون کے آنسو رو رہا ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فوج فلسطینی بچوں کو قتل کر رہی ہے۔فلسطینی کھانے پینے کی اشیاء،ادویات اور پانی کی ترسیل سے محروم ہیں ۔دنیا اسرائیل پر معاشی اور دفاعی پابندی لگائے۔ اسرائیل اور بھارت جو کرتے ہیں وہ دنیا میں کبھی نہیں دیکھا ۔ فلسطین اور کشمیر کھلی جیل ہیں،سب سے زیادہ جینوسائیڈ فلسطین میں ہو رہا ہے۔ اسرائیلی افواج ہر جنگ میں فلسطینی بچوں کو قتل کرنے کے واقعات بڑھا رہی ہے ۔غزہ کے اطراف کی سرحدوں کو کھولاجائے ،عالمی مبصرین کو وہاں تک جانے کی اجازت دی جائے ۔ پاکستانی عوام فلسطینیوں اور کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔ فلسطین میں فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔ نیتن یاہو،مودی کا نیکسس ایکسپوز ہو رہا ہے۔ فلسطینی عوام کو کہا جا رہا ہے کہ یہاں سے نکل جائیں، فلسطینی عوام کیوں اپنی جگہ چھوڑیں ۔اوآئی سی اور سعودی وزارت خارجہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشعل نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے خواتین کو بااختیاربنانے میں اہم کردارکوسراہتے ہوئے کہاکہ اس حوالے سے شہزادسلمان کی کاوشیں لائق تحسین ہیں،مشعل ملک نے کہاکہ اوآئی سی میں پاکستان نے خواتین کے حقوق کے لیے آوازبلند کی ہے اور نیویارک میںھی اسلام میں خواتین پر وزارتی کانفرنس بلائی ہے، انسانی حقوق اور خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ میں بھی ایک پرامن آزادی پسند ہوں، ہمارا خاندان ہندوستانی قبضے کے خلاف کشمیر کے حق خودارادیت کی جدوجہد میں سب سے آگے ہے۔انہوں نے کہاکہ میں عملی طور پر آدھی بیوہ ہوں، تہاڑ جیل کے ڈیتھ سیل میں بند میرا شوہر سوتیلا باپ ہے اور ہماری 11 سالہ بیٹی آدھی یتیم ہے۔ ہم نے اسے 9 سال سے نہیں دیکھا اور ساڑھے 14 سال کی شادی میں صرف 60 دن گزارے۔مشعل نے نشاندہی کی کہ بھارت نے انہیں بے گھر کر دیا ہے، اس کے علاوہ انہوں نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے، تشدد، گرفتاریوں، حملوں اور دھمکیوں کے کئی واقعات دیکھے، حتیٰ کہ ان کی بیٹی کو بھی نہیں بخشا گیااورجب وہ باپ سے ملنے تہاڑ جیل گئی تو انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا، جامہ تلاشی تلاشی لی گئی تب ہماری بیٹی کی عمر صرف دو سال تھی،انسانی حقوق اور خواتین کو بااختیار بنانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ اس طاقتور پلیٹ فارم کے ذریعے آج دنیا سے ایک سوال پوچھنا چاہتی ہیں کہ کشمیری عوام کو اس سے بڑھ کر کیا قیمت چکانی پڑے گی کہ وہ ایک ظالم کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے، جیلوں میں قید کیے گئے، اغوا کیے گئے،میں امت مسلمہ کی بیٹی کے طور پر پوچھتی ہوں کہ میرا شوہر کہاں ہے؟ رضیہ سلطانہ کے والد کہاں ہیں؟ محمد یاسین ملک کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا کہ نو سال سے ایک بچہ اپنے والد کو گلے لگانے سے محروم ہے، جس کا واحد جرم کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی قیادت کرنا تھا۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وہ صرف ایک آزادی پسند یا سیاسی آئیکن نہیں تھے بلکہ وہ عدم تشدد، غنڈیوں کی تحریک کے مبلغ تھے اور اس طرح مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی علامت تھے، مشعال ملک نے کہاکہ دنیا کو گواہ ہونا چاہئے، جیسا کہ آر ایس ایس سے متاثر نریندر مودی یاسین کو پھانسی دینا چاہتے تھے کیونکہ وہ آزادی کی سب سے بڑی اور طاقتور آوازوں میں سے ایک کو خاموش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یاسین ملک بھارت کی ان گنت جیلوں میں بند ہزاروں دیگر کشمیری حریت رہنماؤں اور سیاسی قیدیوں کے ساتھ بے قصور قیدہیں، اگر انہیں کچھ ہوا تو اس قتل کا ذمہ دار صرف مودی ہوگا۔مشعل نے خبردار کیا کہ دنیا کو صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے ورنہ کشمیریوں کا ردعمل بھی پرتشدد ہو گاکیونکہ نوجوانوں کے دوبارہ بندوق اٹھانے یا خودکش بمبار بننے کا قوی امکان ہے۔ مشعال نے کہا کہ اگر امن اور عدم تشدد کی جمہوری آوازوں کو قتل کیا جائے، پھانسی دی جائے، جیلوں میں ڈالا جائے، پابندی لگائی جائے، اگر امن پسندی کی آوازوں کا گلا گھونٹ دیا جائے تو ان مظلوموں اور پسے ہوئے لوگوں کو ان کی آواز سنانے کے لیے تشدد کا انتخاب کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔انہوں نے کہاکہ کشمیر اور فلسطین کی مسلم خواتین اور بچوں کو صنفی بنیاد وںپر تشدد کا سامنا ہے جن میں جنسی طور پر ہراساں کرنا، جنگ کے ہتھیار کے طور پر عصمت دری، ، من مانی حراست، چھیڑ چھاڑ، خواتین کی سمگلنگ، جبری گمشدگی شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کی حمایت کے لیے پرعزم رہا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے فوری حل کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان فلسطین کے معصوم بچوں، خواتین اور مردوں کے خلاف انسانیت کے خلاف اسرائیلی جرائم کی بھی شدید مذمت کرتا ہے۔مشعال نے غزہ میں فوری جنگ بندی، غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کو بھیجنے کے لیے مکمل رسائی، دوائی، خوراک اور پانی کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں