اسلام آباد ( اے بی این نیوز )ایک فیصلے پر دوسری مرتبہ نظرثانی نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ،عدالت نے چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کیخلاف شہری خالد محمود کی دوسری نظرثانی درخواست خارج کر دی،فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا دوسری نظرثانی کے حوالے سے اضافی نوٹ شامل ،اضافی نوٹ کے مطابق سپریم کورٹ کا کسی فیصلے پر ازخود نظرثانی کا اختیار نہیں،جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ کے مطابق کیوریٹو ہو یا ازخود کسی بھی نام سے دوسری نظرثانی ممکن نہیں، ازخود نظرثانی کا ذکر آئین میں ہے نہ ہی سپریم کورٹ رولز میں،کوریٹو ریویو کی بھی آئین اور سپریم کورٹ رولز میں کوئی گنجائش نہیں،آرٹیکل 175(2) کے تحت کوئی قانون نہیں بنا جو دوسری نظرثانی کی اجازت دیتا ہو،بھارت اور پاکستان کے آئین میں بہت فرق ہے،آئین اور عدالتی اختیارات میں فرق کی وجہ سے کیوریٹو ریویو پاکستان میں لاگو نہیں ہوسکتا،سپریم کورٹ کئی فیصلوں میں واضح کر چکی کہ فیصلے پر ایک بار ہی نظرثانی ہوسکتی،دوسری نظرثانی کی گنجائش نکالی تو بات تیسری اور چوتھی نظرثانی پر بھی نہیں رکے گی،ایک فیصلے پر بار بار نظرثانی سے قانونی چارہ جوئی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔















