اہم خبریں

ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے جوں جوں وقت گزر رہا ہے اصل حقائق سامنے آرہے ہیں مولانا فضل الرحمٰن

اسلام آباد (  اے بی این نیوز  ) مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملکی سیاسی صورتحال کے حوالے سے جوں جوں وقت گزر رہا ہے اصل حقائق سامنے آرہے ہیں۔ چئیرمین تحریک انصاف کے بارے میں جو قوم کو کہا تھا اور بڑے دعوے کے ساتھ ہم نے یہ بات کی تھی، حقائق تک پہنچ کر ہم نے یہ بات کی تھی کہ یہ ایک بیرونی ایجنٹ ہے، یہو دی لابی کے ساتھ اس کے رابطے ہیں اور ان رابطوں کے بہت سے حوالے ہمارے پاس تھے۔ 2018 کے الیکشن میں اسراائیل اور اس کی خفیہ ایجنسی مو ساد کی طرف سے، انڈیا اور اس کی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے اور بعض عالمی قوتوں کی طرف سے جو ان کی مالی مدد تک بھی کی گئی
اس کے حق میں پروپیگنڈے کیے گئے، اس کے لیے آسمان کی قلابے ملانے لگے ہمارے ملک کے میڈیا کی سطح پر ہو، چاہے ہماری اسٹیبلشمنٹ کی سطح پر ہو، ہم نے نہ کمپرومائز کیا نہ اپنے موقف سے ہٹے،پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ایک ہفتہ قبل جب اقوام متحدہ میں اسراائیل نے پاکستان پر 75 سال کے بعد پہلی مرتبہ تنقید تھی وہ ایک ناجائز تنقید تھی۔ پاکستان نے اس کو تسلیم نہیں کیا، اسرئیل نے ہمیں تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان نے اپنے قیام سے پہلے سن 1940 کی قرارداد میں فلسطین کی سرزمین پر یہو دی بستیاں قائم کرنے کی مخالفت کی تھی فلسطینیوں کے حق کے لیے آواز بلند کی تھی یعنی قیام پاکستان کی جو بنیاد ہے اس میں فلسطینیوں کے حق میں پاکستان کا موقف اور وہاں پر صہیو نیوں کے موقف کے خلاف پاکستان کا موقف یہ پاکستان کے اساس میں شامل ہے جب اسراائیل وجود میں آتا ہے تو اسراائیل کے اس وقت کا وزیراعظم اپنے خارجہ پالیسی کی پہلی پالیسی بیان میں کہتا ہے کہ اسراائیل کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ایک نوزائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،پاکستان کے بارے میں اسراائیل کی سوچ اول دن سے اس کی اساس میں شامل ہے اس کے بعد پاکستان پر ایسے حکمران کہ جو لندن میں اگر الیکشن ہوتا ہے تو یہ اس کینڈیڈیٹ کی حمایت کے لیے یہاں سے جاتا ہے کہ جو کنزرویٹو فرینڈز آف اسراائیل جیسی تنظیم کی طرف سے وہ نمائندہ ہو۔ آج امریکی کانگرس میں، اسراائیل فرینڈز کمیٹی کے بڑے جو پاکستان میں کی علیحدگی پسند تحریکوں کے بھی حامی ہے، پاکستان توڑنے کے سازشوں میں بھی شریک ہے اور وہ برملا عمران خان کی حمایت کر رہا ہے اور پاکستان کی اوپر تنقید کر رہا ہے، اقوام متحدہ کے فورم پر پہلی مرتبہ اسراائیل نے آکر اپنا نقاب اپنے چہرے سے اتار دیا ہے۔ اس نے پی ٹی آئی کے گرفتار لوگوں کو ناجائز گرفتاری سے تعبیر کیا ہے اسرائیل کے نمائندے نے پاکستان پر یہی الزامات لگائے۔ اب آپ خود اندازہ لگائیے کہ کہاں سے اس کی ڈوری ہل رہی ہے۔ آج آپ کو معلوم ہے جب اس کی حکومت ختم ہوئی تو اس نے ایک سفید کاغذ لہرایا، اپنے آپ کو مظلوم بنایا، چورن بیچا اس نے کہ امریکہ نے میرے خلاف سازش کی ہے، ایک سائفر کو اس نے لیٹر کا نام دیا، اس نے خط کا نام دے دیا، اس نے ایک سازش کا نام دے دیا، جو سفارت خانے کا معمول کا عمل ہے، آج اس کا اپنا پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سواتی بیان دے رہا ہے کہ سب ڈرامہ تھا، تو یہ بھی کہتا ہے کہ میں نے اس کو روکا بھی کہ یہ بات بنتی نہیں ہے اور پھر جو امریکہ کا مہرہ ہے پاکستان میں، وہ امریکہ کے خلاف بات بھی کرتا ہے میرا کسی طریقے سے پاکستان میں ایک چورن بک سکے اور اس حوالے سے اپنے آپ کو مظلوم بناؤں۔ پاکستان کی عوام آزادی منش عوام ہیں، یہاں پر عمومی سوچ امریکہ کے خلاف ہے، تو عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، پہلے ائیڈیل اور نظریاتی باتیں بڑے عجیب عجیب قسم کے نظریات پیش کر کے انہوں نے نوجوان ذہن کو گمراہ کیا، عوام کو گمراہ کیا اور پھر اس نے ایک مرتبہ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جس کی حقیقت بھی آج سامنے آگئی ہے، اس کے اپنے گھر سے “شہد شاہد من اہلک” اپنے گھر سے اس پر گواہی آرہی ہے، یہ سارے حقائق اب حقائق ہیں ان کو جھٹلایا نہیں جا سکتا اور مزید انتظار کیجئے، حالات کیا کیا گل کھلاتا ہے، کیا حقائق سامنے لاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں