اہم خبریں

پاکستان صرف اور صرف آئین اور قانون کی حکمرانی سے چل سکتا ہے ، وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف

اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ 2017 میں زیادتی کرنے والوں کو ان سے معافی مانگ کر انہیں ریڈ کارپٹ بچھا کر وطن واپس لانا چاہیے کیونکہ نواز شریف عالمی سطح کا معتبر لیڈر ہے، اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، عالمی مالیاتی اداروں کو کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2023-24 کے بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ 75 سالوں کے بعد پہلا موقع ہے کہ اس پر تنقید کرنے والا بھی کوئی نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ چار سالوں میں انہوں نے کچھ نہیں چھوڑا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا مگر یہ سب کچھ ناکافی ہے کیونکہ پوری قوم مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کو کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، ہمارے میں یہ مداخلت اس لئے ہے کیونکہ گزشتہ چند سالوں کے دوران ملک کو ہر لحاظ سے کمزور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جس شخص نے ملک کو راکھ کا ڈھیر بنانے کی کوشش کی بیرونی قوتیں اس شخص کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعہ نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا، کسی بھی سیاسی قوت نے کبھی دفاعی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 9 مئی کے واقعہ پر ثبوت ہونے کے باوجود حقیقت سامنے نہیں لائی جائے گی اور دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو چھوڑ دیا گیا تو ملک نہیں چل سکتا، پاکستان صرف اور صرف آئین اور قانون کی حکمرانی سے چل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ان عناصر کو کون تحفظ فراہم کر رہا ہے، 2017 میں بھی پاکستان کو ڈبونے کی سازش کی گئی، جو بھی ان معاملات میں ملوث رہا ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ نواز شریف کو پاناما میں سزا دینے کے حوالے سے اس وقت کے ذمہ دار لوگ بھی حقائق بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو چاہیے کہ ملک کے خلاف ان واقعات کے مرتکب عناصر کی ثبوتوں کے ساتھ نشاندہی کی جائے، ڈاکٹر یاسمین راشد، پرویز الہی اور القادر ٹرسٹ کے ٹرسٹی کو بغیر نوٹس کے بری کر دیں گے تو کہاں کا انصاف ہے۔ میاں جاوید لطیف نے کہا کہ نواز شریف کی سزا کے حوالے سے اس وقت کے کردار بھی اسے غلط کہہ رہے ہیں، اس معاملے پر کیا جے آئی ٹی نہیں بننی چاہیے، ایک سینئر وکیل کو آواز اٹھانے پر قتل کر دیا گیا، ارشد شریف کے قتل پر ورثا کو انصاف نہیں مل رہا۔ انہوں نے کہا کہ 2017 کو شب خون مارا گیا اس وقت کے تمام کردار نواز شریف کو ریڈ کارپٹ بچھا کر واپس لائیں اور ان سے معافی مانگیں، اداروں میں موجودہ حاضر سروس لوگوں کو چاہیے کہ وہ نواز شریف سے کہیں کہ ماضی میں غلطیاں ہوئیں، نواز شریف عالمی سطح پر معتبر لیڈر ہے، اس کے بغیر ملک نہیں چل سکتا۔

متعلقہ خبریں