کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا انتباہ سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں شریک یا معاون ممالک اس کے نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اگر کسی ملک کی سرزمین ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال کی گئی تو اسے بھی جائز ہدف تصور کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر جارحیت کا مناسب جواب دیا جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن صرف باہمی احترام، تعاون اور دوہرے معیار کے خاتمے سے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں بیرونی مداخلت پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی تجارتی گزرگاہوں کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے دفاع کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔
عباس عراقچی کا انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے تناظر میں بھی سامنے آیا، جس میں انہوں نے منجمد ریاستی اثاثوں کو ہرجانے کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے کی تجویز کو خطرناک قرار دیا۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام اور ریاستی اثاثوں کے تحفظ کے اصولوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض بیانات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر محتاط اور جارحانہ فیصلے مستقبل میں کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔















