اہم خبریں

ٹرمپ کا بڑا معاشی وار، پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف نافذ

واشنگٹن (اے بی این نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان سمیت دنیا بھر کے 60 بڑے تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک نئے امریکی ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت جمعہ کو ختم ہو چکی ہے۔ یہ محصولات امریکی ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کیے گئے ہیں جس کے ذریعے واشنگٹن غیر منصفانہ تجارتی سرگرمیوں کے خلاف اضافی درآمدی محصولات عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امریکا طویل عرصے سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد کے خلاف سخت اقدامات کرتا آ رہا ہے تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل کریں۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد عالمی سپلائی چین میں شفافیت لانا اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والے نوٹس کے مطابق نئے ٹیرف امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر لاگو ہوں گے۔ تاہم تیل و گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، اہم معدنیات، ہوائی جہاز اور ان کے پرزہ جات اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ مصنوعات بھی نئے ٹیرف سے مستثنیٰ رہیں گی جن پر پہلے ہی قومی سلامتی کی بنیاد پر محصولات نافذ ہیں جن میں گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔

نئے فیصلے کے تحت پاکستان، بھارت، کینیڈا، برطانیہ، بنگلہ دیش، ملائیشیا، میکسیکو، سری لنکا، انڈونیشیا اور اردن سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا گیا ہے جبکہ چین، ویتنام اور دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین جاپان، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ اور تائیوان پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کے ساتھ مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد تک برقرار رکھی گئی ہے۔

امریکی حکام نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ چین پر مجموعی ٹیرف مستقبل میں دوبارہ 20 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے تاہم اس کا انحصار دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے آئندہ تجارتی مذاکرات پر ہوگا۔

دوسری جانب یورپی یونین، آسٹریلیا، برازیل، ناروے اور کینیڈا نے امریکی اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ امریکی مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ یورپی ممالک میں مزدوروں کے حقوق اور لیبر قوانین دنیا کے مضبوط ترین نظاموں میں شمار ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: عالمی ومقامی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی

متعلقہ خبریں