اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو کوئی دوسرا ملک انسانی حقوق کا سبق نہ پڑھائے، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں مسلک کی بنیاد پر دہشت گردی میں کمی آئی ہے، پاکستان کی جیلوں میں 9 مئی کے واقعات میں گرفتار خواتین کی بے حرمتی کی باتیں ملک دشمن پھیلا رہے ہیں، انسانی حقوق کے قومی کمیشن کو اس حوالے سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی، 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہو رہی ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رکن رمیش لال نے کہا کہ اقلیتی اراکین کو گزشتہ حکومت میں ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے گئے،ہمیں بھی ترقیاتی فنڈز دیئے جائیں،اقلیتوں کو گرونانک کے جنم دن،کرسمس اور دیوالی پر مالی معاونت کی جائے،ہمارے لیڈروں کو گزشتہ دور میں جیل میں ڈالا گیا۔انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ غریب کو انصاف ملنا مشکل ہے، قدرتی آفات سے بچنے کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے۔ڈہرکی میں شاندار فلائی اوور ہیڈ برج کا کریڈٹ آصف زرداری کو جاتا ہے۔اقلیتوں کو مساوی ترقیاتی بجٹ دیا جائے۔ رمیش لعل نے کہا کہ جیل میں قیدیوں کو دودو سال سماعت پر نہیں لے جاتے۔ پاکستان میں سیاحت،زراعت کے لئے سازگار ماحول ہیں۔ہمارے ملک جیسا کوئی نہیں ہے۔میر منور تالپور نے کہا کہ رمیش لعل نے یہ کہا کہ لوگ جیلوں میں سڑتے ہیں اور انہیں عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا۔قیدی جیلر کے پاس ہوتے ہیں۔میں 8 بار گرفتار ہوا لیکن کسی نے ازخود نوٹس نہیں لیا گیا۔میری اہلیہ کو چاند رات کو گرفتار کیا گیا۔پی ٹی آئی کے لوگ گرفتار ہوتے ہیں تو انہیں فوری ضمانتیں ملتی ہیں۔جیلوں میں انسانی حقوق کی پاسداری نہیں۔ اس کے جواب میں وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ کوئی ہمیں انسانی حقوق کا سبق نہ پڑھائے، 9 مئی کے حملہ آوروں کے ساتھ پاکستان کے آئین وقانون کے مطابق نمٹا جارہا ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو جیلوں میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی ایک بھی درخواست نہیں ملی، بدقسمتی سے ملک دشمن ایک ٹویٹ کرکے پاکستان کو بدنام کرنے کا آغاز کرتے ہیں پھر ساتھ ہی بیرون ملک سے اسے ہوا دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو در پیش مشکلات کے حوالے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ پڑوسی ملک پاکستان میں مذہبی منافرت پھیلانے کے لئے مداخلت کرتا ہے، کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد کوئٹہ میں مسلک کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کم ہوئی ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد کشمیر کی قرارداد آتے وقت انڈیا نے کراچی میں آگ لگوائی تھی پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یہ معاملہ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اعلی اقدار اور روایات ہمارے ملک کی ہیں۔ دیوالی، ہولی اور عید کے تہواروں کا احترام ہونا چاہیے۔افغانیوں نے جان قربان کرکے اپنی روایات برقرار رکھیں۔انہوں نے کہا کہ جیل میں عورتوں کی بے حرمتی کا الزام درست نہیں ہے۔ایسا کبھی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں عام لوگوں کے کیس سنیں، دروازے بند کرکے کیس سننے کی روایت درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معمولی جرائم کے کیسز کی فیس وزارت انسانی حقوق دے گی۔ غریب کی مدد ہمارا فرض ہے اس کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فنڈ دیں گے۔















