اسلام آباد ( اے بی این نیوز )بحیرہ عرب سے اٹھنے والا سمندری طوفان بائپر جوائے جمعرات 15 جون کو دن 11 بجے کے قریب سندھ کے جنوب مشرقی ساحلی علاقہ کیٹی بندر سے ٹکرائے گا، کراچی کو طوفان سے براہ راست خطرہ نہیں تاہم تند و تیز ہواؤں اور شدید بارشوں کی صورت میں طوفان کے اثرات رونما ہوں گے، طوفان کے خطرے سے دوچار علاقوں سے 73 ہزار لوگوں کا انخلائ کر لیا گیا ہے جنہیں محفوظ مقامات پر سکولوں اور پختہ عمارتوں میں قائم 75 کیمپس میں منتقل کیا گیا ہے، تمام متعلقہ ادارے الرٹ اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں، عوام کو کسی بھی قسم کی افراتفری سے اجتناب برتتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ سینیٹر شیری رحمان اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سمندری طوفان بائپر جوائے کی صورتحال اور اس سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں بدھ کو صبح اور شام میں منعقدہ جائزہ اجلاسوں کے بعد دو علیحدہ علیحدہ مشترکہ پریس کانفرنسوں میں میڈیا کو بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے ان کی سربراہی میں سمندری طوفان بائپر جوائے کی مانیٹرنگ کے لیے کمیٹی تشکیل دی ہے، طوفان سے منسلک خطرات بدستور برقرار ہیں اور اس کے مطابق تمام اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بائپر جوائے کی نوعیت انتہائی شدید طوفان کی ہے جس کی سطح پر ہواؤں کی رفتار 150 سے 160 کلومیٹر ہے جبکہ اس کے مرکز میں 180 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان کا کراچی سے فاصلہ بڑھ گیا ہے اور کیٹی بندر سے کم ہو گیا ہے۔ طوفان کراچی سے 370 کلومیٹر اور کیٹی بندر سے 290 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے اور یہ جس راستے کی پیشگوئی کی گئی تھی اسی کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور یہ کل جمعرات کو کیٹی بندر کے ساحلی علاقے سے ٹکرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان کی وجہ سے کراچی کے علاوہ ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر کے علاقے متاثر ہونے کا امکان ہے جہاں تیز اور تند ہواؤں کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ طوفان کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، اس سلسلہ میں این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان باقاعدگی کے ساتھ رابطہ اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی تناظر میں صورتحال پر غور کیا جا رہا ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ طوفان کے اثرات کی زد میں آنے والے علاقوں میں کمزور انفراسٹرکچر، بل بورڈز، کچی چھتوں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کے انخلاءکیلئے بروقت اقدامات شروع کئے گئے، متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے کیلئے 75 ریلیف کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلے سمندر سے متعلق بھی انتباہات جاری کئے گئے ہیں، شہری ساحل کا رخ نہ کریں جبکہ ماہی گیروں کو بھی اس حوالے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے اور ادارے الرٹ ہیں، ہمیں صورتحال کے پیش نظر محتاط اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے جبکہ لوگوں کو اس بارے میں مسلسل آگاہی دینے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندری طوفان کے اثرات کی زد میں آنے والے زیادہ تر علاقے گذشتہ سال کے سیلاب سے بھی متاثر ہوئے تھے اور مقامی لوگ اب بھی مختلف مصائب کا شکار ہیں، متاثرین کو اس صورتحال میں بروقت ریلیف فراہم کرنے اور بعد ازاں ان کی آبادکاری اور تعمیرنو کے کاموں پر توجہ دی جائے گی۔ فلائیٹ آپریشنز سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ طوفان کے اثرات کے باعث چھوٹے جہازوں کا فلائیٹ آپریشن بند کیا جا رہا ہے تاہم بڑے جہازوں کے لئے صورتحال کے مطابق ایڈوائزری جاری کریں گے۔ شیری رحمان نے کہا کہ یہ آفات موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا نتیجہ ہیں، پاکستان کا اس میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اس کے باوجود یہ سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سمندری طوفان کے بارے میں بتایا کہ بائپر جوائے طوفان پیشنگوئی اور اندازوں کے مطابق اپنی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے جو کل صبح 10 بجے سے 11 بجے کے قریب سندھ کے جنوب مشرقی ساحلی علاقہ کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے درمیانی ساحلی علاقے سے ٹکرائے گا۔ اس سے سندھ کے ملحقہ ساحلی علاقوں کے علاوہ بلوچستان کے چند علاقے بھی متاثر ہونے اور اربن فلڈنگ کاخدشہ ہے جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مقامی لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے قائم کیمپس کے بارے میں تفصیلات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ 73 ہزار لوگوں کو محفوظ مقامات پر قائم 75 کیمپس میں منتقل کیا گیا ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں کو ریلیف کیمپوں میں شیلٹر کے ساتھ خوراک، صذف پانی اور طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ ان کا ڈیٹا بھی مرتب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طوفان کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور متعلقہ این جی اوز سمیت تمام شراکت داروں کے ساتھ اس کے متعلق بروقت معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانیٹرنگ و ریسکیو ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں جو بوقت ضرورت مزید لوگوں کے انخلاءکو بھی یقینی بنائیں گی۔ چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ ایسے علاقوں کی نشاندہی کردی گئی ہے جہاں پانی کھڑا ہونے کا امکان ہے اور اس پہلو کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔















