اہم خبریں

چار سالوں میں گوادر پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی،احسن اقبال

اسلام آباد ( اے بی این نیوز   )2015 میں گوادر کی ترقی کے لیے جو اہداف مقرر کئے تھے وہ تو تبدیلی کی نظر ہو گئے، چار سالوں میں گوادر پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی،بجلی اور پانی کے وہ منصوبے جو 2018 میں مکمل ہونا تھے وہ وہیں کے وہیں رکے رہے،گوادر کے منصوبوں کو کیوں روک کر رکھا گیا یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب گزشتہ حکومت کو دینا ہے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر اقبال احسن نے گوادر منصوبوں پر پیش رفت کےجائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہو ئے کیا،انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں صوبہ بلوچستان کو ترقیاتی بجٹ میں سب سے زیادہ حصہ دیا گیا،بجٹ میں تعلیم ، صحت ، سماجی شعبے کے لیے ایک بڑی رقم مختص کی گئی تاکہ بلوچستان عوام کو ضروری سہولیات میسر کی جا سکیں، گوادر میں گزشتہ 3 ماہ میں 18 منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا،ایران سے ملنے والی بجلی کے بعد عوام کو بجلی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے، ایران سے 100 میگاواٹ بجلی کی فراہمی سے گوادر کے عوام کی زندگیوں اور کاروبار میں بہتری آئے گی،کیسکو بجلی کی ترسیل کے ساتھ بلوں کی ریکوری پر بھی توجہ دے ،عوام میں آگہی پیدا کی جائے کہ بجلی کے ساتھ بلوں کی ادائیگی بھی ضروری ہے ، بجلی کی ترسیل کا دارومدار بلوں کی ریکوری پر ہے ،2018سے 2021 کے دوران 166207 میٹرک ٹن گارگو جبکہ 2022 سے 2023کے دوران 637124میٹرک ٹن کارگو گوادر پورٹ اتریں۔ نیزاجلاس میں وفاقی و صوبائی وزارتوں اور تمام سٹیک ہولڈرز کی شرکت ۔

متعلقہ خبریں