اسلام آباد(نیوزڈیسک) سماجی زوال کی ایک بڑی وجہ چائلڈ لیبر کو شناخت کرنےاوراس کا مقابلہ کرنے میں غفلت ہے۔ان خیالات کا اظہار بچوں کے حقوق کے کارکنوں نے چائلڈ لیبر ڈے 2023 کے موقع پر سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈ (سپارک) کی جانب سے جاری بیان میں کیا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سپارک آسیہ عارف خان نے کہا کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر کے تناسب میں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے اور ملک میں 22.8 ملین بچے سکولوں سے باہر ہیں، سیلاب اور قدرتی آفات کے بعد صورتحال مزید خراب ہےجہاں سکول نہ جانےوالے بہت سے بچے چائلڈ لیبر پر مجبور ہوئے ہیں۔چائلڈ ڈومیسٹک لیبرکی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے، آسیہ نےافسوس کا اظہارکیا کہ ہرچوتھا گھر ضرورت مند بچوں کو محنت کش کام کرنے کےلیے ملازم رکھتا ہے یہاں تک کہ تعلیم یافتہ اورخوشحال خاندان بھی اپنے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کےلیے7سال تک کے غریب بچوں کو ملازمت دیتے ہیں، ان بچوں کوبہت کم معاوضہ دیاجاتا ہےاورانہیں بغیرآرام کےطویل اوقات کام دیاجاتا ہے،صرف اسلام آباد میں بہت سے ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں گھریلو مزدوری بھی شامل ہےجہاں بچوں کو بعض اوقات مار پیٹ کرماردیاجاتا ہے۔ خلیل احمد ڈوگر پروگرام منیجر سپارک نےکہا کہ یہ دن بچوں کو نقصان دہ پیشوں سے بچانے کا مطالبہ کرتا ہے، جہاں بہت سے بچے خطرناک اور غیرمحفوظ جگہوں جیسے بارودی سرنگوں،اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنےکی وجہ سےمرجاتے ہیں، آٹو موبائل ورکشاپس،روڈ سائیڈ ہوٹلوں، ٹرانسپورٹیشنز میں چائلڈ لیبر کو روکنے کی ضرورت ہے جہاں بچوں کے جسمانی اور جنسی استحصال کا خطرہ ہوتا ہے۔ خلیل احمد ڈوگر نےکہا کہ پاکستان میں چائلڈ بانڈڈ لیبررز کی صورت حال پر بھی توجہ مبذول کروائی جو 2022 کے سیلاب کے بعد ابتر ہوگئی ہے کیونکہ بہت سے پہلے سے مقروض خاندانوں کو گھروں، کنبہ کے افراد، مویشیوں اور فصلوں کے نقصان کی وجہ سے اپنے قرضوں میں اضافے کاسامناہے،بندھوا مزدوروں کےطور پرکام کرنے والےان کے خاندانوں میں بچوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے جو قرض کی غلامی میں بھی ہیں۔















