اسلام آباد (اے بی این نیوز )9 مئی یوم سیاہ سے متعلق ایک اور قرارداد قومی اسمبلی میں منظور کر لی گئی،وزیر دفاع خواجہ آصف نے 9 مئی یوم سیاہ سے متعلق افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کی قرارداد پیش کی ،قرار داد کے متن کے مطابق نومئی کو دل دہلا دینے والے شرمناک واقعات پیش آئے، ملوث عناصر کے خلاف موجودہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے،نومئی کے واقعات میں ملوث عناصر، ان کے معاون اور مددگاروں کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کے تحت کارروائی کی جائے،نو مئی کے واقعات سے دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص متاثر ہوا،ایوان مسلح افواج کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یہ لوگ اب چھپے ہیں اپنے ٹیلی فون خواتین کے کمروں میں چھوڑ کر چلے گئے کیا سیاسی ورکر اس طرح کرتے ہیں 2007 میں نواز شریف نے وطن واپس آنے کی کوشش کی لیکن واپس بھیجا گیا سیالکوٹ کے ایک ڈی آئی جی کی آنکھ ضائع ہوگئی انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کیساتھ کونسا سلوک کیا ؟ ساتھ والی بلڈنگ والوں سے استدعا ہے نو مئی کے واقعات کو سامنے رکھیں یہ صرف میرا وطن نہیں یہ آپ کو وطن بھی ہے فوجی تنصیبات کی حفاظت ان کو بھی فرض بنتا ہے جس شخص کی وہ حمایت کررہے ہیں وہ کسی کا وفادار نہیں ہے۔کرنل شیر خان کا مجسمہ اکھارٹے ہوئے کسی کو ان کی قربانی یاد نہیں آئی انہوں نے ایٹمی قوت کی نشانی کو بھی آگ لگا دی ان کے چہروں کی شناخت کریں یہ کہاں سے آئے یہ شخص کہتا ہے کہ مجھے پتہ نہیں باہر کیا ہورہا تھا اس کے پاس ٹیلی فون کی سہولت تھی وہ اس کو یاد تھا لوگ اس کے کہنے قومی شناخت کو مسخ کررہے تھے عدالت کے اندر ٹیلی فون استعمال کرتا رہا آٹھ نو مذمت کرنے کا انتظار کرتا رہا ساتھ والی بلڈنگ میں رہنے والے بھی اتنے دنوں بعد مذمت کی پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے میں بھی وہ ملوث تھا قید کے اندر سے ویڈیو پیغام دیا اور دھمکی دی کہ اگر رہا نہ کیا گیا تو دوبارہ تیار ہوجائیںجسٹس فائز عیسیٰ نے طرح انہوں نے اپنی قانونی جنگ لڑی انکا اعزاز تھا کہ وہ اس کمیشن کے سربراہ ہوں ،جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس منیب اور جسٹس مظاہر ہوتے تو پھر ان کو اعتراض نہ ہوتا گزشتہ ایک سال سے سارے بینچز انہی ججز کے بن رہے ہیں 9 مئی کو جس طرح حملہ کیا گیا دفاعی تنصیبات پر، یہ پاکستان پر حملہ تھا یہ کردار ادا کیا گیا جس کی توقع صرف انڈیا سے ہوسکتی تھی البتہ پاکستان سے نہیں اب اپنے پرانے رشتہ داروں سے رشتہ داری گنوائی جارہی ہے، پہلے انہیں یاد نہیں تھا ہر پارلیمنٹیرین کا فرض ہے کہ ہم پر اداروں کا دفاع لازم ہے اور خصوصاً 9 مئی کے بعد لازمی ہوگیا ہے پہلی بار ہوا ہے کہ میانوالی ائر بیس پر حملہ سابق وزیراعظم کے نام لیواؤں نے کیا اللہ کو جان دینے والا کہتا رہا کہ جی ایچ کیو پر حملہ کرواس نے جو کچھ رانا ثناء اللہ کیساتھ کیا وہ واضح ہے ، یہ بے گناہی کا ثبوت ہیں جس طرح کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر حملہ کیا گیا، قربانی یاد نہ رکھی جائیں تو قومیں مٹ جاتی ہیں جس وقت کرنل شیر خان کی یاد گار کو مسمار کیا جارہا تھا اس وقت کسی کو کچھ خیال نہ آیاان لوگوں کا چہرہ سامنے آنا چاہیے کہ کون کون شخص ہے ،پی ٹی آئی نے اس کو چیلنج کردیا ہے اور اسے تین ججز پر اعتراض ہے اعتراض کیا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا اختیار ہے ہم نے اس میں جج ہی متعین کئے ہیں کوئی پارلیمنٹ کا کوئی ممبر نہیں ہے دو چیف جسٹس ہیں ایک اسلام آباد اور ایک بلوچستان سے ہیں جسٹس فائز عیسیٰ کو اس کا سربراہ بنایا گیا ہےان لوگوں نے صرف فوجی تنصیبات پر حملے کیے ،یہ پہلی دفعہ ہے کہ میانوالی ایئربیس پر بظاہر پاکستانیوں نے حملہ کیا ،جو کہتا تھا اللہ کو جان دینی ہے وہ لوگوں کو جی ایچ کیو پر حملے کا کہتا رہا رانا ثناءاللہ یہاں پر ہے لیکن اس شخص کو غیرت نہیں آئی کور کمانڈر ہاؤس کو کیوں چنا گیا جو قومیں اپنے محسنوں کو یاد نہیں۔ رکھتیں وہ مٹ جاتی ہیں۔















