اسلام آباد (اے بی این نیوز)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےامریکی ارکان کانگریس کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی کوششوں کا نوٹس لے لیا اور وزارت خارجہ سے مداخلت کی کوششوں کی روک تھام کے اقدامات بارے تفصیلات طلب کر لیں، کمیٹی نے صدر، وزیراعظم، ججز، وفاقی وزراء، بیوروکریٹس اور ارکان اسمبلی کو ملنے والی مراعات سے متعلق پیش کی گئیں تفصیلات کو نامکمل قرار دیا اور مکمل تفصیل جمع کروانے کی ہدایت کردی،پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزارت خارجہ امور سے متعلق آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا جانا تھا تاہم سیکرٹری خارجہ اجلاس میں نہ آسکے،سیکرٹری کی عدم موجودگی کے باعث کمیٹی نے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ نہ لینے کا فیصلہ کیا،اجلاس کے دوران نور عالم خان کا کہنا تھا کہ آج کل جو امریکہ کے کانگریس مین پاکستان میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں اس کو روکنے کےلئے آپ نےکیا کیا ہے،پروپیگنڈا ہمارے اداروں کے خلاف ہو رہا ہے، کانگریس مین مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کی حکومت کو لیٹر بھیجنا ہے کہ آپ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں،جو خط و کتابت ہوگی وہ ہمیں بتانا ہے،بہت سے لوگ ہمارے ملک میں مداخلت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،کمیٹی نے بیرون ممالک سفارت خانوں کیلئے کرائےپر حاصل کی گئی عمارتوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں آئندہ اجلاس میں وزارت خارجہ کے مختلف سیکشنز کے ڈی جیز کو طلب کر لیا،کمیٹی اجلاس میں صدر، وزیراعظم، ججز، وفاقی وزراء، بیوروکریٹس اور ارکان اسمبلی کو ملنے والی کی مراعات کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں،کمیٹی نے تفصیلات کو نامکمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور مراعات کی مکمل تفصیل جمع کروانے کی ہدایت کردی، نور عالم خان نے کہا کہ چیف جسٹس کا ایک گھر،ایک بلٹ پروف گاڑی اور 18 سو سی سی گاڑی لکھا گیا ہے، بلٹ پروف کا نہیں لکھا کہ قیمت کیا ہے، 600 لیٹر پیٹرول، لامحدود یوٹیلیٹی سہولیات لکھا گیاہے،نور عالم خان نے آڈٹ حکام سے استفسار کیا کہ نادرا کے ادارے این ٹی ایل کا آڈٹ کرتے ہیں؟ جس پر آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کوشش کی گئی تھی نان پروڈکشن آف ریکارڈ کا پیرا بنا ہوا ہے، نور عالم خان نے کہا کہ اس کا آڈٹ ہر حال میں ہوگا۔















