اسلام آباد(اے بی این نیوز )وزارت منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات نے رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی کے دوران جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے 129 ارب روپے جاری کر دیے ہیں۔ جاری کئے گئے 129 ارب روپے کے فنڈز میں فاٹا ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے 27 ارب روپے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح وزارت آبی وسائل کو 30 ارب ، وزارت مواصلات 22 ارب ، ہائر ایجوکیشن کمیشن 7 ارب ، ہاؤسنگ اینڈ ورکس 4 ارب ، وزارت ریلوے 8 ارب جبکہ وزارت توانائی کو 5 ارب جاری کئے گئے ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق آخری سہ ماہی کے لئے جاری 129 ارب روپے کے بعد مجموعی ترقیاتی بجٹ 600 ارب روپے ہو گیا ۔رواں سال کے ترقیاتی بجٹ میں گذشتہ سال کے 550 ارب روپے میں مقابلے میں 50 ارب روپے زائد جاری کئے گئے ہیں۔ ملک میں جاری معاشی بحران کے باوجود وزارت منصوبہ بندی نے چوتھی سہ ماہی کی ریلیز کو یقینی بنایا گیاا ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے کوئی ترقیاتی فنڈز جاری نہیں کئے گئے تھے ۔ رپورٹ کے مطابق وزارت آبی وسائل کو دیے جانے والے 30 ارب روپے کے منصوبوں میں دیا میر بھاشا ڈیم ، مہمند ڈیم ، کچی کنال ، نئی گج ڈیم اور کراچی بلک واٹر سپلائی کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔مواصلات کو دیے جانے والے 22 ارب روپے میں خضدار کچلاک روڈ ،اور پرانی بنوں روڈ کو دو رویہ کرنے کا منصوبہ شامل ہے جبکہ ریلوے کو جاری کئے جانے والے 8 ارب روپے کے تحت 320 مسافر بوگیوں اور مال بردار گاڑیوں کی خریداری کے منصوبے شامل ہیں اور وزارت توانائی کو دیے جانے والے 5 ارب روپے کے تحت کراچی کوسٹل پاور پروجیکٹ منصوبہ ، مکران ٹی ایل اور جیوانی ٹی ایل منصوبے شامل ہے۔















