اسلام آباد (اے بی این نیوز ) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سینئر نائب صدر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات ناگزیر ہیں ، سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ، اگر عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو عدلیہ بیٹھ جائے گی۔ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی مودی سے محبت کی وجہ سے کشمیر کا معاملہ سرد پڑا ہے۔ ستیاپال کے بیان پر ردعمل نہ دینا تشویشناک ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے انکشافات پر کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائیں۔گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹریٹ میں سینئر پارٹی رہنما حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیا پال کے انکشافات پر دو دن انتظار کیا کہ وزیر خارجہ ، وزیر اطلاعات ردعمل دیں گے لیکن ردعمل نہ آنا حیران کن ہے۔ ستیاپال ملک نے کہا کہ پلوامہ معاملہ مودی کی غلطی تھی ، اس انٹرویو پر بھارت میں آگ لگی ہوئی ہے اور یہاں کوئی بات ہی نہیں ہو رہی۔ فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو کی مودی سے محبت کی وجہ سے کشمیر کے معاملے پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ کشمیر کے معاملے پر حکومت اندھی گونگی بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کی فوج انڈیکیٹ ہوئی جس پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ ستیاپال کے بیان پر ردعمل نہ دینا تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا گزشتہ روز مولانا فضل الرحمن نے باتیں کیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جنرل ریٹائرڈ باجوہ اور جنرل فیض سے ڈیل ہوئی کہ دھرنے کے بعد خان صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔ یہ ڈیل انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ کسی ملک میں اسٹیبلشمنٹ حکومت کو لانے اور لے جانے کا کام نہیں کر سکتی۔ مولانا فضل الرحمن کو اپنے قد کے مطابق بات کرنی چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے انکشاف ہونا بڑی اہمیت کا حامل ہے ، انہوں نے نام لئے ہیں اور بتایا کہ کن کن لوگوں سے ان کی بات ہوئی تھی، ان کی بات پر کمیشن بنا کر تحقیقات کی جانی چاہئیں۔تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں الیکشن کا انعقاد ضروری ہے ، ملک کی اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دیا اس ہر عمل درآمد یقینی بنایا جائے ، اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا تو جوڈیشری بیٹھ جائے گی ، ججز کی فیملیز کے خلاف ریفرنسز نکالے جا رہے ہیں ، پریس ریلیز جاری کرنا جوڈیشری کا کام نہیں ہے۔حکومتی قراردادوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، پاکستان کی لیڈر شپ عدالتی فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔ کل سٹیٹ بینک پیسے ٹرانسفر کرے گا اور شیڈول کے مطابق انتخابات ہوں گے۔ حکومت کا آئین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پوری قوم ججز کی طرف دیکھ رہی ہے اور ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے اور ضمانتوں کے باوجود غیرقانونی طور پر ہمارے لوگوں کو اٹھایا گیا۔ پورے پنجاب میں تحریک انصاف کا ہر بندہ کسی نہ کسی مقدمے میں نامزد ہے۔ فواد چوہدری نے الزام لگایا کہ مفتی عبدالشکور کا جنازہ بھی نہیں ہوا تھا اور یہ لابی بن رہی تھی کہ کون وزارت کا چارج سنبھالے گا؟ان کا کہنا تھا کہ کچھ دیر پہلے صدر مملکت کو خط لکھا، خط میں دو چیزوں کا کہا گیا ہے ، الیکشن کمیشن آف پاکستان 90 دن میں الیکشن کروانے میں ناکام ہوا ہے اس پر چیف الیکشن کمشنر سے جواب طلب کیا جائے اور 22 اپریل کو نگراں حکومت کی مدت ختم ہوجائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجا جائے کہ نگراں حکومت کی از خود توسیع نہیں ہو سکتی۔















