اہم خبریں

قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ کا 8 رکنی بینچ تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک)قومی اسمبلی نے عدالتی اصلاحات سے متعلق بل کیخلاف درخواستوں کی سماعت کیلئے 8 رکنی بینچ کی تشکیل کیخلاف مذمتی قرار داد کثرت رائے سے منظورکرلی ،جس میں بینچ تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔سپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، جس میں پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نےعدالتی اصلاحات سے متعلق بل کیخلاف درخواستوں کی سماعت کیلئے 8 رکنی بینچ کی تشکیل کیخلاف مذمتی قرار داد پیش کی ، جس کو ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔پیپلز پارٹی کے رہنما آغا رفیع اللہ نے کہا عدالت عظمیٰ کے حالیہ متنازع فیصلوں سے ناصرف ملک میں آئینی بحران پیدا ہوا بلکہ ایک جانبداری کا تاثر قائم ہوا ۔قرار داد کے متن کےمطابق قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے، یہ ایوان سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کو چیلنج کرنے ، اور سماعت کیلئے 8 رکنی بینچ بنانے مذمت اور بینچ تحلیل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے ۔پیپلزپارٹی کے ممبر قومی اسمبلی علی موسیٰ گیلانی نے بھی قرارداد کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو ایوان میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔پارلیمان تمام اداروں میں مداخلت کی مجاز، پارلیمان میں مداخلت کوئی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہاکہ بل پاس کریں اوروہ سپریم کورٹ میں چلا جائے چیلنج ہونے کیلئے ہمیں اس چیز کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ جب یہ بل اڑا دیں گے تو اس کے بعد ہم یہاں پہ بیٹھ کے تقریریں کریں گے، پارلیمان ہے یہ مداخلت کرسکتا ہے تمام اداروں کے اندر کیونکہ ہم ان کو طاقت دیتے ہیں،لیکن ہمارے ہاؤس کے اندر مداخلت کوئی نہیں کرسکتا ہے ۔جس کے بعد قومی اسمبلی کے ایوان نے آغا رفیع اللہ کی ہی پیش کردہ مذمتی قرار داد بھی کثرت رائے سے منظور کرلی ۔قومی اسمبلی کا اجلاس 26 اپریل کو شام 4 بجے پھر ہوگا ۔

متعلقہ خبریں