اہم خبریں

خطرناک سائبر جاسوسی نیٹ ورک بے نقاب، پاکستان سمیت کئی ممالک ہیکرز کے نشانے پر

خطرناک سائبر جاسوسی نیٹ ورک بے نقاب، پاکستان سمیت کئی ممالک ہیکرز کے نشانے پر

اسلام آباد (اے بی این نیوز) عالمی سائبر سکیورٹی کمپنی کاسپرسکی نے انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز کے ایک منظم گروہ میراج کِٹن(Mirage Kitten APT) نے ایک نئے اور پہلے سے غیر دستاویزی میلویئر سیٹ کے ذریعے متعدد ممالک کی حساس تنظیموں کو نشانہ بنایا، جن میں پاکستان کی ہوا بازی (ایوی ایشن) سے متعلق تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

کاسپرسکی کی گلوبل ریسرچ اینڈ اینالیسس ٹیم (GReAT) کے مطابق اس مہم کا مقصد متاثرہ اداروں کے نیٹ ورکس تک طویل المدتی رسائی حاصل کرنا اور حساس معلومات چوری کرنا تھا۔ کمپنی کے محققین نے مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں اس مہم کے متاثرین کی نشاندہی کی، جن میں مصر، اردن، تنزانیہ، ایتھوپیا، برکینا فاسو اور پاکستان کی مختلف تنظیمیں شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے تین خصوصی پروگرامز پر مشتمل ایک جدید ٹول سیٹ استعمال کیا، جس میں NightLedger، ArcBridge اور BridgeHead شامل ہیں۔ ان میں NightLedger ایک نیا ونڈوز بیک ڈور ہے، جو حملہ آوروں کو متاثرہ کمپیوٹرز پر ریموٹ کنٹرول فراہم کرتا ہے، جبکہ ArcBridge اور BridgeHead نیٹ ورک میں خفیہ سرنگ (Tunneling) بنا کر حملہ آوروں کو بغیر توجہ حاصل کیے اندرونی نظام تک رسائی برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

کاسپرسکی کے مطابق پاکستان میں ایک ایرو اسپیس اور ایوی ایشن تنظیم میں بھی BridgeHeadٹول کی تعیناتی کے شواہد ملے، جہاں ابتدائی طور پر ہدفی اسپیئر فشنگ (Spear Phishing) حملوں کے ذریعے رسائی حاصل کی گئی۔ ان حملوں میں جعلی بھرتی کے پیغامات، معروف اداروں کے نام پر بھیجے گئے ای میلز اور جعلی ویڈیو کانفرنسنگ صفحات استعمال کیے گئے، جن کے ذریعے متاثرین کو بدنیتی پر مبنی فائلیں ڈاؤن لوڈ کروائی گئیں۔

کاسپرسکی کے سینئر سکیورٹی محقق عمر امین نے کہا کہ میراج کِٹن گروہ مسلسل اپنے سائبر جاسوسی کے ہتھیاروں کو جدید بنا رہا ہے اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں حساس اداروں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق خفیہ ٹنلنگ ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہیکرز کے لیے متاثرہ نیٹ ورکس میں طویل عرصے تک موجود رہنا اور سکیورٹی نظام سے بچ نکلنا آسان ہو جاتا ہے۔

کمپنی نے تنظیموں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ NightLedger، ArcBridge اور BridgeHead جیسے میلویئر سے تحفظ کے لیے جدید سائبر سکیورٹی حل استعمال کریں، اپنے سسٹمز کی مسلسل نگرانی کریں اور مشتبہ سرگرمیوں کی فوری تحقیقات کو یقینی بنائیں۔

کاسپرسکی نے مزید سفارش کی کہ ادارے Kaspersky Next، Managed Detection and Response (MDR)، Incident Response اور Threat Intelligence جیسی جدید سکیورٹی سروسز سے استفادہ کریں تاکہ سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی، تدارک اور حساس ڈیٹا کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔
فاسٹ فوڈ سے متعلق مولانا طارق جمیل کا حیران کن بیان سامنے آگیا

متعلقہ خبریں