اہم خبریں

ملک کو تقسیم اور عدم استحکام کا شکار نہ کیا جائے، عبدالقادر پٹیل

اسلام آباد( اے بی این نیوز   )وفاقی وزیر برائے قومی صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا ہے کہ پارلیمان بالادست ادارہ ہے باقی ادارے اسی سے نکلے ہیں، آئین چاروں وفاقی اکائیوں میں ایک ساتھ انتخابات کرانے کا کہتا ہے، ملک کو تقسیم اور عدم استحکام کا شکار نہ کیا جائے ۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں انہوں نے ایوان کی کارروائی کی صدارت کرتے ہوئے جویریہ ظفر آہیر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کی ذمہ داریاں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی ہیں، ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا چاہئے، اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ہم زیادہ بولتے تھے تاہم اب کندھوں پر ذمہ داریاں ہیں تو کام پر توجہ مرکوز ہے جبکہ ہمیں کسی کی پیٹھ پیچھے بات کرنے کی عادت نہیں، جو یہاں اپنا دفاع نہ کر سکے اس کے خلاف کیا بات کریں، وہ جب حکومت میں تھے اور فرعونیت میں تھے ہم ڈٹ کر اپنا مؤقف سب کے سامنے رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ناطے ہم نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تو اس وقت ضیاء الحق اپنے تمام تر جبر و استبداد کے ساتھ کھڑا تھا، ہم نے بھٹو شہید کا دامن تھاما اور اس کیلئے لڑے اور اﷲ نے ہمیں سرخرو کیا، اس ملک میں سیاسی نشیب و فراز کا ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کیا، یہ سفر آسان نہیں تھا، نوجوان نسل شاید تاریخ کا مطالعہ نہیں کرتی کہ وہ دیکھے کہ سیاسی جدوجہد کیا ہوتی ہے اور جمہوریت کی قیمت کتنی مہنگی ہوتی ہے، مشرف سے نمٹنے کے بعد پھر ججوں اور جرنیلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، سیاسی لیڈر گلی گلی جا کر عوام کے مسائل حل کریں، پارلیمان میں کردار ادا کریں، بجلی، گیس، پانی نہیں تو یہ ہماری ذمہ داری ہے، اتنی جدوجہد کے بعد اس برائے نام بالادست ایوان میں آتے ہیں تو لاکھوں لوگوں کے ووٹ لے کر آنے والوں کو عدالتی بابوں آپ کی ساری بالادستی کو پامال کرتے ہیں، انہیں کس نے یہ اختیار دیا کہ وہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی جو فیصلہ آیا ہے یہ ملک میں کس طرح کا نظام لانا چاہتے ہیں، اس سے ملک میں تقسیم نظر آ رہی ہے، پنجاب کے حوالہ سے دیگر صوبوں میں پہلے ہی تحفظات ہیں کہ یہاں نشستیں زیادہ ہیں اور یہ وفاق میں اس کی بنیاد پر حکومت بنا لیتے ہیں، اگر یہاں دو صوبوں میں پہلے الیکشن ہوتے ہیں تو پھر باقی صوبے اس کا تماشا دیکھیں گے، کیا ہمیں مشرقی پاکستان بنایا جا رہا ہے؟ 20 سال جمہوری جدوجہد کے دعویدار کو صرف چندہ لیتے ہی دیکھا ہے، آئین میں سب سے پہلے مردم شماری کی شرط آتی ہے، یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ 90 دن میں انتخابات کرانا آئین میں لکھا ہے تو پھر دونوں صوبوں میں کرا دیتے، کے پی میں بھی 90 دن میں ہونے چاہئے تھے، ایسی کونسی مجبوریاں ہیں جو ایسے فیصلے کراتی ہیں، اگر کسی کو ریلیف دینے کا سوچا ہے تو الیکشن سے پیچھے ہٹنے والے ہم بھی نہیں ہیں تاہم اس کا طریقہ کار ہونا چاہئے، ہم نے سندھ میں ان کی ابھی ضمانتیں ضبط کرائی ہیں، ہم انتخابات کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 92ء کا ورلڈکپ جیتا تو عمران خان نے اس کو کسی ایک جگہ پر بھی ٹیم ورک کا نتیجہ قرار نہیں دیا بلکہ ذاتی کریڈٹ لیتا رہا، یہ جیل جانے سے ڈرتا ہے، یہ گرفتاری دیدے، یہ جس طرح کہے گا ہم الیکشن کرا دیں گے، یہ ایوان سے اس لئے بھاگا کہ یہاں پر جواب سننا پڑتا، یہ کہیں بھی مناظرے میں نہیں جاتا، اپنے خلاف بات سننے کا روادار نہیں، اگر دو صوبوں میں انتخابات ہوتے ہیں تو کیا یہ ہارنے کی صورت میں اس کے نتائج تسلیم کرے گا، یہ صرف وہی نتائج تسلیم کرے گا جس میں یہ جیتے، اس نے پاکستان کو معاشی اور سیاسی لحاظ سے غیر مستحکم کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تقسیم نہ کیا جائے، اسے متحد اور مستحکم رہنے دیا جائے۔

متعلقہ خبریں