اہم خبریں

ساتویں خانہ و مردم شماری کے لیے تاریخ میں توسیع

اسلام آباد( اے بی این نیوز       ) پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) ساتویں خانہ و مردم شماری کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹلی طور پر انجام دے رہا ہے، مردم شماری کا فیلڈ آپریشن یکم مارچ 2023 سے شروع ہوا اور بغیر کسی رکاوٹ کے 4 اپریل 2023 تک جاری رہا۔ یہ قوم کے لیے ایک بڑی خوشی اور ایک بہت بڑی کامیابی ہے کہ ملک بھر میں ٹیبلیٹ کے ذریعے 92% درج گھرانوں کا ڈیٹا کامیابی کے ساتھ مقررہ مدت کے اندر جمع کر لیا گیا ہے اور صرف %8 مردم شماری کا فیلڈ ورک رہتا ہے جو کہ بڑے بلاکس، یا تو وہ بلاکس جہاں مردم شماری کا کام لاجسٹک انتظامات کی وجہ سے کچھ تاخیر سے شروع ہوا یا کچھ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے کچھ دنوں کے لیے روک دیا گیا۔ مردم شماری کے بچ جانے والے کام کو مکمل کرنے کے لیے، صوبائی مردم شماری کمشنروں سے ایک تجویز طلب کی گئی تھی جس میں رہ جانے والا کام مکمل کرنے کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ PCCs کی تجویز کو مدنظر رکھتے ہوئے، چیف سنسز کمشنر نے 10 اپریل 2023 تک %100 کوریج کو یقینی بنانے کے لیے بقیہ کام مکمل کرنے کی تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔اگر شمار کنندگان نے ابھی تک آپ کے گھر کا دورہ نہیں کیا ہے تو، پاکستان کے تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ٹول فری نمبر 0800-57574 استعمال کرتے ہوئے PBS کو مطلع کریں جو 24/7 فعال رہے گا۔ کوریج نہ ہونے کی شکایات کے لیے شہری اپنا مکمل پتہ 9727 پر ایس ایم ایس کے ذریعے بھی بھیج سکتے ہیں یا وہ پی بی ایس ریجنل دفاتر یا تحصیل کی سطح پر قائم کردہ 495 مردم شماری سپورٹ سنٹر سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں تاکہ کوریج نہ ہونے سے متعلق اپنی شکایات درج کر سکیں۔اس کے ساتھ ساتھ، کمپیوٹر اسسٹڈ ٹیلی فونک انٹرویو (CATI) کا استعمال کرتے ہوئے پوسٹ انیومریشن سروے کے ذریعے ڈیٹا کے معیار کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور معزز شہریوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ CATI کے ذریعے آنے والی کالوں کے ذریعے اپنے ڈیٹا کی تصدیق کے لیے ہماری ٹیم کے ساتھ تعاون کریں۔ یہ بات قابل تحسین ہے کہ یکم مارچ سے 10 مارچ 2023 تک ملک بھر میں تمام ڈھانچے، عمارتوں کو درج کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی معیار اور موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں آج تک درج فہرست گھرانوں کی کل تعداد 39.62 ملین سے زیادہ ہے۔پی بی ایس کی جانب سے 20 فروری 2023 سے 10 مارچ 2023 تک خود شماری کا پورٹل شروع کیا گیا تھا جس کے تحت شہریوں نے پورٹل کو استعمال کرکے اپنا شمار یقینی بنایا اور یہ طریقہ اختیاری تھا۔پاکستان کے شہریوں سے جو مردم شماری کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈرز ہونے کے ناطے ان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے گھر آنے والے فیلڈ سٹاف کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنائیں اور کال سنٹر کے اہلکاروں جو کوالٹی کنٹرول کے لیے ڈیٹا کی تصدیق کے لیے یا عدم کوریج کی شکایت معصول ہونے پر کال کر سکتے ہیں۔مردم شماری میں حصہ لینا نہ صرف ہماری اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے بلکہ حکومت کو ہمارے حقوق پر بہتر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ثبوت پر مبنی پالیسی اور منصوبہ بندی کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان ادارہ شماریات ایک خوشحال قوم کے لیے باخبر اور دانشمندانہ پالیسی اور منصوبہ بندی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل اس بڑے کام کے 92 فیصد مردم شماری کے فیلڈ آپریشن کو مکمل کرنے کے لیے ان کی انتھک کوششوں اور غیر متزلزل تعاون پر قوم اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا شکر گزار ہے۔ پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل مردم شماری بڑی کامیابی کے ساتھ مکمل کی جا رہی ہے اور یہ پاکستانی قوم کے لیے بڑے فخر کا لمحہ ہے کیونکہ یہ جنوبی ایشیا کی اب تک کی سب سے بڑی ڈیجیٹل مردم شماری ہے۔ مردم شماری کا آخری مرحلہ یعنی گنتی 12 مارچ 2023 سے 4 اپریل 2023 تک جاری رہی۔ اس مرحلے میں گھریلو افراد اور ان کی آبادیاتی خصوصیات، مختلف سماجی و اقتصادی اشاریوں کے ساتھ ساتھ رہائشی خصوصیات کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ مردم شماری کی مجموعی پیش رفت انتہائی حوصلہ افزا اور تسلی بخش ہے۔ چند معمولی مسائل کے علاوہ کسی بڑے واقعے/خرابی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

متعلقہ خبریں