اسلام آباد ( اے بی این نیوز )پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ صارفین سے نیلم جہلم سرچارج کی مد میں 5.8 ارب روپے بلاجواز وصول کئے گئے،کمیٹی نے بلاجواز وصول کئے گئے پیسے صارفین کو واپس کرنے کاحکم دے دیا،کمیٹی نے بجلی کی جبری لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ پر برہمی کا اظہار بھی کیاپارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں وزارت توانائی سے متعلق سال 2021-22 کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا، کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2018 سےجون 2021 تک مختلف ڈسکوز میں صارفین پر 5.8 ارب نیلم جہلم سرچارج لاگو کیا گیا،ارکان کمیٹی کا کہنا تھا کہ بلاجواز وصول کئے گئے پیسےصارفین کو واپس کئے جانے چاہئیں،منصوبہ مکمل ہونےکے بعد 9 ارب روپے وصول کئے گئے،وہ ہیں کہاں پر؟سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ پیسے نیلم جہلم منصوبے کے لئے جمع ہوتے تھے، 9 ارب نیلم جلہم کمپنی کو ٹرانسفر کر دیئے گئے،پیسے بلوں میں ایڈجسٹ کردیں گے،ایڈجسٹمنٹ کی رپورٹ جمع کرادیں گے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بجلی بھی نہیں اور بل بھی بڑھ رہے ہیں۔















