سابق سفیر سردار مسعود خان ( sardar masood khan )نے اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہے، جو مسلسل کوششوں اور مؤثر مشاورت کا نتیجہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے ابتدائی دو مراحل کی کامیابی کے بعد تیسرا مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے مکمل ہوا، اور جب عالمی سطح پر اس کے خاتمے کے خدشات بڑھ رہے تھے، پاکستان نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے فریقین کو دوبارہ آمادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں اور بیک ڈور ڈپلومیسی کے باعث فریقین کے درمیان مذاکرات کا عمل آگے بڑھا، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق عارضی جنگ بندی میں توسیع کے لیے پاکستان پہلے ہی بھرپور تیاری کر چکا تھا۔سردار مسعود خان نے واضح کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار تہران کی حتمی رضامندی پر ہے، جبکہ خلیج فارس اور بحرہ عرب میں اب بھی شدید بحری تناؤ موجود ہے جو صورتحال کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
بریکنگ نیوز۔۔ ایران میں 8 خواتین بارے اہم خبر،بہت بڑا اعلان کر دیا گیا،جا نئے کیا
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے امریکا کو ایرانی اثاثہ جات اور بحری جہازوں کے معاملے پر فوری اور جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے، جبکہ معاشی محاصرہ ختم کرنا بھی اعتماد سازی کے لیے ضروری ہے۔ان کے مطابق ایران اور اسرائیل اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے سخت بیانات اور فوجی تیاریوں کا سہارا لے رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی قیادت ایران کو دفاعی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس تمام صورتحال میں کسی بھی وقت کشیدگی طویل جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ عسکری کشیدگی برقرار ہے، لیکن دونوں ممالک نے پس پردہ سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھے ہیں، اور مذاکراتی عمل کو بیانیے کی جنگ کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اندرونی رائے عامہ کو متاثر کیا جا سکے۔سردار مسعود خان کا مزید کہنا تھا کہ عالمی پابندیوں کے باوجود ایران نے جدید دفاعی نظام تیار کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، جبکہ طاقتور بحری بیڑوں کے سامنے اس کی مزاحمت نے دنیا کو حیران کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان کی قیام امن کی کوششیں ناکام ہوئیں تو یہ صرف ایک ملک نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کی ناکامی ہوگی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے لیے وقت کی پابندی ختم ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے، اور تکنیکی سطح پر ہونے والی بات چیت ہی کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دے سکتی ہے۔















