مشیر وزیر اعظم برائے سیاسی امور( Rana Sanaullah )نے انکشاف کیا ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہ صرف فعال بلکہ فیصلہ کن سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے ممکنہ بڑی جنگ کو ٹالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلسل کوششوں کے باعث فریقین کے درمیان جنگ بندی ممکن ہوئی اور عالمی سطح پر اس کا اعتراف بھی کیا جا رہا ہے۔
اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے بات چیت کرتے ہو ئے کہا کہ کہ پاکستان ہمیشہ سے علاقائی مسائل کے حل میں قائدانہ کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس بار بھی یہی روایت برقرار رکھی گئی۔ ان کے مطابق چین، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت دوست ممالک نے بھی اس حساس مرحلے پر بھرپور معاونت فراہم کی، جس سے سفارتی کوششوں کو تقویت ملی۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھا گیا جبکہ دیگر اہم ممالک بھی مشاورتی عمل میں شامل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی مؤثر اور نتیجہ خیز رہی۔
مشیر وزیر اعظم کے مطابق مذاکرات کے باوجود کچھ اہم نکات پر اختلافات بدستور موجود ہیں، تاہم ان کو ختم کرنے کیلئے پس پردہ سفارتکاری تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کا عمل ختم نہیں ہوا بلکہ مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے اور جلد مثبت نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔
مزید پڑھیں :امریکہ کی زیر صدارت اہم مذاکرات شروع،جا نئے تفصیل
انہوں نے حساس سیکیورٹی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی معلومات کو قبل از وقت عوام کے سامنے لانا مناسب نہیں ہوتا کیونکہ اس سے جاری سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق بعض معاملات کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جنہیں مکمل ہونے تک خفیہ رکھنا ہی قومی مفاد میں ہوتا ہے۔
معاشی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے باعث توانائی بحران کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور اگر کشیدگی جنگ میں تبدیل ہوئی تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث عوام کو فوری ریلیف دینا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور آئندہ دورے ملکی معیشت کی بحالی کیلئے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑی سرمایہ کاری یا مالی معاونت حاصل ہو جاتی ہے تو ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض بڑے مالی دعوؤں کے حوالے سے حقائق کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے کیونکہ بغیر تصدیق کے کسی بھی بیان پر یقین کرنا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق قومی مفاد میں فیصلے ضرور کیے جائیں، مگر وہ قانونی اور شفاف ہونے چاہئیں۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کا حامی ہے اور مستقبل میں بھی یہی کردار جاری رکھا جائے گا تاکہ دنیا کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔















