کاروباری اوقات میں کمی کے فیصلے کے خلاف ملک بھر کے تاجروں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے وفاقی اور پنجاب سطح پر شٹر ڈاؤن ہڑتال ( shutter down)کا اعلان کر دیا ہے۔ تاجروں کے رہنما اجمل بلوچ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مختلف صوبوں میں کاروباری اوقات میں یکسانیت نہ ہونے سے تاجر طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔اجمل بلوچ کے مطابق سندھ اور خیبرپختونخوا میں باہمی مشاورت کے بعد دکانیں رات 9 بجے تک کھلی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ وفاق اور پنجاب میں دکانیں 8 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو تاجروں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اگرچہ سرکاری طور پر 8 بجے بندش کا حکم موجود ہے، لیکن عملی طور پر وہاں بھی دکانیں 9 بجے تک کھلی رہتی ہیں، جس سے ملک بھر میں پالیسیوں کا تضاد واضح ہوتا ہے۔تاجر رہنما نے یہ بھی کہا کہ مہنگی بجلی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باوجود تاجر برادری پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے، اور ایسے میں کاروباری اوقات میں کمی مزید نقصان کا باعث بن رہی ہے۔مطالبہ کیا گیا ہے کہ دیگر صوبوں کی طرح اسلام آباد اور پنجاب میں بھی رات 9 بجے تک کاروبار کی اجازت دی جائے تاکہ پورے ملک میں یکساں پالیسی نافذ ہو سکے اور تاجروں کو ریلیف مل سکے۔تاجر تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک گیر سطح پر احتجاج اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا دائرہ مزید وسیع کیا جا سکتا ہے۔















