اہم خبریں

قرآن پاک کی بے حرمتی مسلمانوں کے خلاف ایک غیر اخلاقی، اشتعال انگیز اور دہشت گردانہ حملہ ہے،سینٹ

اسلام آباد ( نامہ نگار  )سینٹ اجلاس میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی تحریک پیش کی ۔تحریک میں مطالبہ کیا گیا کہ وقفہ سوالات کو منسوخ کرکے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی واقعے پر بحث کرائی جائے۔بعدازاں سویڈن اور نیدرلینڈ میں نسل پرستوں اور شدت پسندوں کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی پر بحث کے لئے ایوان کی کارروائی معطل کردی گئی۔اور سینیٹرز کو بولنے کا موقع دیا ، اجلاس میں ریمارکس دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ دونوں یورپی ممالک میں ہونے والے گھناؤنے جرم پر دنیا کے مختلف حصوں میں احتجاج ہو رہا ہے۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دونوں یورپی ممالک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی۔ مشتاق احمد نے کہا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی مسلمانوں کے خلاف ایک غیر اخلاقی، اشتعال انگیز اور دہشت گردانہ حملہ ہے، سویڈن اور ہالینڈ کے سفیروں سے اس شرمناک حرکت پر مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرنے کے لیے سخت احتجاج کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ اسلامو فوبک واقعات کو روکیں اور کہا کہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے حوالے سے ان کا دوہرا معیار عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ قرآن پاک اللہ کا کلام ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر 23سال میں نازل ہوا اور آنے والے ہر انسان کی رہنمائی کرتا ہے ۔اپنے ریمارکس میں فیض محمد نے کہا کہ چونکہ اسلام یورپی ممالک میں پھیل رہا ہے اس لیے اس عمل کو روکنے کے لیے بعض عناصر کی جانب سے مذہب کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ یورپی ممالک میں اسلام فوبک کارروائیاں آزادی اظہار نہیں بلکہ یہ ان کی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور تعصب کا اظہار ہے۔تاج حیدر نے دنیا میں اسلام اور قرآن پاک کے پیغام کو مؤثر طریقے سے پھیلانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو آگاہ کیا جائے کہ مقدس کتاب صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔اپنے ریمارکس میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات کو بین الاقوامی سطح پر غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔کامران مائیکل نے کہا کہ اسلام فوبک کارروائیوں میں ملوث افراد کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس موقع پر سنیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کو نتیجے میں پاکستان نے جوابی دھماکے کیے تو فرق پڑاایسے واقعات کو باتون سے نہیں عمل سے روکا جاسکتا ہے مسلمان جب دفاع, معیشت میں جب تک ترقی نہیں کرتے ہمارے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔سینیٹر ڈاکٹر مہر تاج ، سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور سینیٹر شہادت اعوان کے علاوہ دیگر سینیٹرز نے بھی یورپی ممالک میں بے حرمتی کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ سینٹ کا اجلاس سوموار 30 جنوری تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔۔

متعلقہ خبریں