اسلام آباد( نیوز ڈیسک )انسداد عصمت دری (تحقیقات و ٹرائل) ایکٹ 2021 کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر عائشہ رضا فاروق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔پراجیکٹ کی خصوصی کمیٹی کے چیئرمین نے خصوصی طور پرا یکٹ کے تحت عملدرآمد کی صورتحال، اس کے تحت بنائے گئے قواعد کو حتمی شکل دینے اور اسے اپنانے اور اس کے نفاذ کے لئے مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کرنے کے لئےاجلاس بلایا۔جمعہ کو وزارت قانون و انصاف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر، پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون و انصاف مہناز اکبر عزیز، سیکشن آفیسر جواد رضا سلطان، کمیٹی کے فوکل پرسن اسامہ ملک، وزارت قانون کے افسران اور مذکورہ ایککٹ کی شق 15 کے تحت قائم خصوصی کمیٹی کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔سیکشن آفیسر جواد رضا سلطان نے کمیٹی کو ایکٹ کے تحت شروع کیے گئے پراجیکٹس پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور اس سے متعلق قانونی اور انتظامی سوالات کے جوابات دیے۔انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری قانون راجہ نعیم اکبر کی سربراہی میں ایکٹ کے تحت منصوبوں کے حوالے سے بڑی پیش رفت ہو چکی ہے۔ اب تک تمام صوبوں بالخصوص پنجاب، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد انتظامیہ بھرپور کام کیا ہے ۔تفصیلی غور و خوض کے بعد خصوصی کمیٹی نے مندرجہ ذیل فیصلے متفقہ طور پر کئے۔خصوصی کمیٹی نے سفارش کی کہ اینٹی ریپ (ٹرائل پروسیجر) رولز 2022، اینٹی ریپ (انوسٹی گیشن) رولز 2022 اور اینٹی ریپ (کرائسز سیل اور میڈیکو لیگل) رولز، 2022 کو اس میں شامل کیا جائے۔اس حوالے سے پاکستان بھر میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز میں شعور اجاگر کرنے کیلئے آگاہی مہم جلد از جلد شروع کی جائے۔اس ایکٹ کے تحت بنائے گئے تمام قواعد کا اردو ترجمہ جلد یقینی بنایا جائے۔اس ایکٹ پر خامیوں کا مکمل تجزیہ کیا جائے اور اس کے مطابق مستقبل کے پروجیکٹ کے لیے ایک عمل درآمد کی راہ کا تعین کیا جائے ۔















