نیویارک(نیوزڈیسک)اقوام متحدہ کے چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کے چار ماہ بعد بھی 40 لاکھ بچے تاحال سیلاب کے ٹھہرے ہوئے آلودہ پانی کے قریب مقیم ہیں جو ان کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مقیم بچوں میں سانس لینے کا شدید انفیکشن پھیل رہا ہے جو کہ دنیا بھر میں بچوں کی اموات کی بڑی وجہ ہے۔یونیسیف کی طرف سے سیلاب زدہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کی زندگی بچانے کی مدد فراہم کے لیے 17 کروڑ 35 لاکھ ڈالر کی امداد دینے کی درخواست کے باوجود بھی اس فنڈ میں ابھی تک صرف 35 فیصد رقم جمع ہوسکی ہے۔پاکستان میں یونیسف کے نمائندے عبداللہ فادل نے کہا کہ یونسیف کے زیر نگرانی سیلاب زدہ علاقوں میں جولائی اور دسمبر 2021 کے درمیان شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد بھی دوگنہ ہوگئی ہے جہاں ابھی تک 15 لاکھ بچوں کو زندگی بچانے والی غذائیت کی شدید ضرورت ہے۔پاکستان میں یونیسف کے نمائندے عبداللہ فادل نے کہا کہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رہنے والے بچوں کو دہانے پر دھکیل دیا گیا ہے۔عبداللہ فادل نے کہا کہ بارشیں ختم ہو چکی ہیں مگر بچوں میں پیدا ہونے والا بحران ابھی تک ختم نہیں ہوا، تقریباً 1 کروڑ لڑکیوں اور لڑکوں کو اب بھی فوری زندگی بچانے والی امداد کی ضرورت ہے کیونکہ مناسب پناہ گاہیں نہ ہونے کے باعث وہ سخت سردی کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ شدید غذائی قلت، سانس اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں سردی کے موسم میں لاکھوں نوجوانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔یونیسیف کے مطابق سندھ کے بالائی ضلع جیکب آباد میں بہت سے خاندان کے پاس سیلابی پانی سے اپنی عارضی پناہ گاہوں کو ڈھانپنے کے لیے محض کپڑا تک نہیں ہے جبکہ رات کے وقت درجہ حرارت 7 ڈگری سینٹی گریڈ تک آگیا ہے۔علاوہ ازیں پہاڑی اور بالائی علاقوں برف باری ہونے کی وجہ سے درجہ حرارت سفر سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔یونیسیف اور شراکت داروں نے سیلاب متاثرین کے لیے موسم سرما کے لیے گرم ملبوسات کی کٹس، جیکٹس، کمبل اور دیگر اشیاء فراہم کرنا شروع کر دی ہیں جو کہ ت بچوں، اور خواتین سمیت تقریباً 2 لاکھ افراد تک پہنچائی جائیں گی۔بچوں کی صحت کو نظر میں رکھتے ہوئے یونیسیف کی طرف سے 8 لاکھ بچوں کی غذائی قلت کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں جن کے علاج کے لیے ریڈی ٹو یوز تھیراپیوٹک فوڈ تجویز کیا گیا ہے۔یونیسیف کی طرف سے اب تک تقریباً 15 لاکھ لوگوں تک بنیادی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات فراہم کی جا چکی ہیں اور سیلاب متاثرہ 16 اضلاع میں 45 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔















