انقرہ (نیوزڈیسک) صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ شام میں ایک آپریشن کے دوران داعش دہشت گرد تنظیم کے نام نہاد رہنما ابو القریشی کو بے اثر کر دیا،رجب طیب اردگان نے ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی پر ایک انٹرویو میں کہا کہ انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) داعش کے نام نہاد رہنما، کوڈ نیم ابو حسین القریشی کی طویل عرصے سے مانیٹرنگ کررہی تھی ۔”انہوں نے مزید کہا کہ “یہ پہلی بار ہے جب میں میڈیا کے سامنے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ ایم آئی ٹی کے کل ایک آپریشن میں عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کا نام نہاد رہنما ابو القریشی کو ختم کردیا۔انہوں نے کہا کہ انقرہ بغیر کسی امتیاز کے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گا۔2013 میں ترکی داعش کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے والے پہلے ممالک میں سے ایک ہے۔اس کے بعد سے ملک پر دہشتگرد گروہ نے متعدد بار حملے کئے جس میں کم از کم 10 خودکش بم دھماکوں، سات بم حملوں اور چار مسلح حملوں میں 300 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میںترکیہ صدر نے کہا کہ مزید حملوں کو روکنے کیلئے اندرون اور بیرون ملک انسداد دہشتگردی کی کارروائیاں شروع کیں۔اردگان کا کہنا تھا کہ مغرب میں نسل پرستی، اسلامو فوبیا اور امتیازی سلوک “کینسر کی طرح” پھیل رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مغربی ممالک نے ابھی تک اس خطرے سے نمٹنے کیلئے کوئی کوشش نہیں ۔”انہوں نے زور دے کر کہا کہ نفرت انگیز تقریر اور مسلمانوں اور مساجد کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میںبھی اضافہ ہو رہا ہے۔اردگان نے کہا، “نسل پرست گروہوں کی طرف سے گھناؤنی حرکتیں، مساجد کو آگ لگانا اور قرآن پاک کی بے حرمتی میں بھی اضافہ افسوسناک ہے۔ ہم اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے،” اردگان نے کہاحالیہ مہینوں میں شمالی یورپ اور نورڈک ممالک میں اسلامو فوبک گروہوں کی طرف سے قرآن کو جلانے یا ایسا کرنے کی کوششیں دیکھنے میں آئی ۔نیو نازی نیشنل سوشلسٹ انڈر گراؤنڈ گروپ (NSU) کے ہاتھوں قتل عام پر گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر اردگان نے کہا کہ ضروری سمجھا جائے تو ہمیں نتائج کے حصول ، مواد سے لے کر اخلاقی معاوضے تک، بین الاقوامی عدالتوں میں ہر قسم کے مقدمے دائر کرناہوں گے۔”انتہائی دائیں بازو کے دہشتگرد گروپ NSU نے 2000 اور 2007 کے درمیان آٹھ ترک تارکین وطن، ایک یونانی شہری، اور ایک جرمن پولیس خاتون کو قتل کیا، لیکن یہ مقدمات طویل عرصے تک چل سکے۔















