نئی دہلی(نیوزڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقریر پر شکایت کے بغیر بھی مقدمات درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیاہے کہ مقدمات درج کرنے میں تاخیر پر متعلقہ حکام توہین عدالت کے مرتکب ہوں گے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے اپنے 2022 کے حکم نامے کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے نئی دہلی، اتر پردیش اور اتراکھنڈ پولیس کو ہدایت کی کہ وہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات کے خلاف از خود کارروائی کریں۔نفرت انگیز تقاریر کو سنگین جرم قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ نفرت انگیز تقریملک کے سیکولر معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔جسٹس کے ایم جوزف اور بی وی ناگرتھنا پر مشتمل بینچ نے حکم جاری کیا کہ ہم مزید واضح کرتے ہیں کہ نفرت انگیز تقریر کرنے والے والے کے مذہب سے قطع نظر کارروائی کی جائے تاکہ ملک کا سیکولر کردار محفوظ رہے۔















