اہم خبریں

بھارتی حکومت کشمیریوں سے خوفزدہ، دہلی میں کشمیر پر سیمینار پر پابندی عائد

سرینگر(نیوزڈیسک)حریت رہنماعبدالحمید لون نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں میڈیا مکمل طور پر بلیک اوٹ کردیا گیا، بھارتی دارالحکومت دہلی میں گاندھی پیس فاؤنڈیشن کے زیراہتمام سیمینارر کا انعقاد کیا گیا ،دہلی پولیس نے امن وامان کے معاملے کو جواز بنا کر سیمینار کی اجازت دینے سے انکار کردیا،مودی حکومت نے سیمینار کے منتظمین ومقررین کو گمنام گروپ قرار دیدیا ۔عبدالحمید لون حریت رہنما کا کہنا تھا کہ حالانکہ سیمینار کا اعلان کرنے والے پوسٹر میں کافی معروف منتظمین کی ایک لمبی فہرست ہے جیسے اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا ( SFI)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA)، دہلی ٹیچرس فورم (DTF) اور نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹس نے جاری کررکھی تھی ۔عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ ان تمام تنظیموں کے دفاتر دہلی میں موجودہیں اور مختلف مسائل پر کافی سرگرم عمل بھی ہیں،عبدالحمید لون کہنا تھا کہ جو مقررین پورے بھارت میں کافی مشہور ہیں، اور ان میں مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ کے سابق جج حسین مسعودی بھی شامل ہیں،سیمینار میں یوسف تاریگامی، مقبوضہ کشمیر میں سابق سی پی آئی،ایم ایل اے؛ نندیتا نارائن، سینٹ سٹیفن کالج میں پروفیسر ہیں، معروف دستاویزی فلم ساز سنجے کاک؛ اور عوامی مبصر انیل چماڈیہ اور حریت رہنما شاہد سلیم میر بھی شامل ہیںعبدالحمید لون حریت رہنمااس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کا موقف بہت کمزور ہے۔ عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ بھارت میں لوگوں کو اظہار رائے کی آزادی ہے نہ ہی بنیادی حقوق نہ انسانی حقوق اور نہ جمہوری حقوق میسر ہیں ۔

متعلقہ خبریں