اہم خبریں

لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل، سپریم کورٹ کا آج ہی انتخابی شیڈول جاری کرنے کا حکم

اسلام آباد ( اے بی این نیوز    )سپریم کورٹ نے لاہورہائیکورٹ کافیصلہ معطل کردیا،سپریم کورٹ نے لاہورہائیکورٹ کومزیدکارروائی سے روک دیاالیکشن کمیشن آج ہی الیکشن شیڈول جاری کرے،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ آج رات الیکشن کمیشن اپناشیڈول جاری کرے،ہم کسی کونہیں کہیں گے آپ سے کام کرائیں گے،کیا ہم نے آپ کو کہا 8فروری کو الیکشن کرائیں؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی نہیں،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس آپ کاجوکام ہے وہ آپ کام کریں،ہم نے آپ کی ر کاوٹ دورکردی اب آپ اپناکام کریں،الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کرنے کی یقین دہانی کرادیآپ اپنا کام کریں ہمیں اپنا کرنے دیں، اجازت دیں تو میں چھٹی پر چلا جاؤں، عدالت نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بھی نوٹس جاری کر دیے،عدالت نے الیکشن کمیشن کی اپیل باضابطہ سماعت کیلئے منظور کر لی،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی، نیزسپریم کورٹ نے ڈی آراوزکی تعیناتی سے متعلق لاہورہائیکورٹ کاحکم معطل کردیا،جاری حکم نامہ کے مطابق الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریاں جاری رکھے،الیکشن کمیشن3گھنٹے میں انتخابی شیڈول جاری کرے،8فروری2024کوالیکشن شیڈول یقینی بنایاجائے،کسی کوبھی جمہوریت ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،الیکشن کمیشن کی جانب سے لاہورہائیکورٹ کے حکم نامے کے بعدجاری نوٹیفکیشن بھی معطل کر دیا گیا،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن اب اپناکام کرے،ہم نے رکاوٹ دورکردی،الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کوآج ہی الیکشن شیڈول جاری کرنے کی یقین دہانی کرادی،الیکشن کمیشن کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم کی وجہ سے آج شیڈول جاری نہیں کرسکے،حکم نامہ کے مطابق الیکشن کمیشن کاکہناہےہائیکورٹ کاحکم موجودرہاتوالیکشن شیڈول دیناممکن نہیں ہوگا،لاہورہائیکورٹ کے13دسمبرکے حکم کیخلاف اپیل دائرکی گئی،سپریم کورٹ میں کیس کرنے والوں کوہائیکورٹ میں فریق بنایاگیا،درخواست میں الیکشن ایکٹ کی سیکشن50اور51غیرآئینی قراردینے کی استدعاتھی،الیکشن کمیشن کے مطابق ہائیکورٹ کے حکم کی وجہ سے آج شیڈول جاری نہیں کرسکے،الیکشن کمیشن کہتاہے ہائیکورٹ کاحکم موجودرہاتوالیکشن شیڈول دیناممکن نہیں ہوگا،عدالت نے عمیرنیازی کوالیکشن کمیشن کی درخواست پرنوٹس جاری کردیاالیکشن کمیشن کی اپیل باضابطہ سماعت کیلئےمنظور کر لی گئی،۔ قبل ازیں سماعت کے دورانچیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس میں نے موسٹ سینئر ججز کے نام بینچ کیلئے تجویز کیےتھے ، جسٹس اعجاز الااحسن مصروفیات کے باعث نہیں آ سکے، ہم نے جسٹس منصور علی شاہ کو پھر تکلیف دی، وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ درخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے،درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ شق تو کبھی بھی چیلنج کی جا سکتی تھی اب ہی کیوں، وکیل سجیل سواتی نے کہادرخواست گزار کہتے ہیں انتظامی افسران کی آر او تعیناتی ہمیشہ کیلئے ختم کی جائے، درخواست میں استدعا تھی کہ الیکشن کمیشن کو عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینے کی ہدایت کی جائے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ شق تو کبھی بھی چیلنج کی جا سکتی تھی اب ہی کیوں،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کی فہرست حکومت دیتی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ درخواست گزار کیا چاہتے ہیں؟ ، سجیل سواتی نے کہا ہےدرخواست گزار چاہتے ہیں ریٹرننگ افسران عدلیہ سے لیے جائیںالیکشن کمیشن نے عدلیہ کو فروری میں جوڈیشل افسران کیلئے خط لکھا تھا، عدلیہ نے زیرالتوا مقدمات کے باعث جوڈیشل افسران دینے سے معذوری ظاہر کی تھی، ہائیکورٹ کے خط کے بعد درخواست گزار کیا انتخابات ملتوی کرانا چاہتے تھے؟ سجیل سواتی نے کہا ک کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب نہیں دیا، پشاور ہائیکورٹ نے کہا جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی سے رجوع کریں،الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح عدلیہ سے ریٹرننگ افسران لینا ہی تھا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے،عمیر نیازی آخر چاہتے کیا تھے؟ ہائیکورٹ اپنی ہی عدالت کے خلاف رٹ کیسے جاری کر سکتی ہے؟ پی ٹی آئی کی درخواست پر ہی سپریم کورٹ نے انتخابات کا فیصلہ دیا تھا، جسٹس سردار مسعود نے ریمارکس دیئے کہ انہوں نے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا کیا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کہا آئین کے آرٹیکل 218 تھری کے تحت فیئر الیکشن کرائے جائیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے،کیا آرٹیکل 218 تھری میں کچھ ایسا ہے کہ انتخابات فیئر نہیں ہو سکتے؟ آپ نے کوئی پک اینڈ چوز تو نہیں کیا؟ نہیں میں نے کوئی پک اینڈ چوز نہیں کیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے آر اوز ڈی آر اوز کی تعیناتی کیلئے چیف جسٹس ہائیکورٹ سے مشاورت کی جائے، چیف جسٹس پاکستان کی وکیل الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ ہم کچھ تھکے ہوئے ہیں، سٹیپ بائے سٹیپ بتائیں، آئین کے تحت الیکشن کراناالیکشن کمیشن کاکام ہے،آپ نے کیس فائل کرنے سےپہلے کوئی درخواست سپریم کورٹ میں دی،اگرجوڈیشری پربھروسہ نہیں توکہنے سے کیاہوتاہے،یہاں پی ٹی آئی سے کوئی موجود ہے،سردار طارق مسعود نے کہا کہ کون ہے جویہ کہتاہے کہ الیکشن نہ ہوں؟چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کیلئے کام کریں گے نہیں بلکہ آپ سے کام کرائیں گے،سردار طارق مسعود نے کہا کہ آپ کےپاس ٹائم تھا آپ قانون کوچیلنج کرتے،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ عمیر نیازی کی ایک درخواست پر پورے ملک میں انتخابات روک دیں؟ عمیر نیازی کی درخواست تو سپریم کورٹ کے حکم کی توہین ہے، سپریم کورٹ میں تو تحریک انصاف درخواست گزار تھی،کیا عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟ درخواست گزارنے جمہوریت کوڈی ریل کرنے کی کوشش کی،عمیر نیازی کو کوئی مسئلہ تھا تو سپریم کورٹ آتے، ہائیکورٹ نے پورے ملک کے ڈی آر اوز کیسے معطل کر دیے؟ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کہتے ہیں جوڈیشل افسران نہیں دے سکتے، کیا جج نے اپنے ہی چیف جسٹس کیخلاف رٹ جاری کی ہے؟ کیا توہین عدالت کے مرتکب شخص کو ریلیف دے سکتے ہیں؟ کیوں نہ عمیر نیازی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں؟ کیا عمیر نیازی وکیل بھی ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عمیر نیازی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رہے ہیں،چیف جسٹس کاوکیل الیکشن کمیشن سے سوال،آپ نے الیکشن شیڈول کیوں نہیں دیاچیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ مجھے شیڈول دکھائیں آپ نے شیڈول کیوں نہیں دیا،آپ کے پیچھے کون شخص کھڑا ہے؟ چیف جسٹس کاسیکرٹری الیکشن کمیشن سے باربارسوال کہ شیڈول کہاں ہے جسٹس سردارطارق مسعود نے کہا کہ لکھاہے کہ پہلے ٹریننگ ہوگی پھرشیڈول جاری کیاجائے گا،الیکشن کرانے کیلئےکم ازکم کتنے دن چاہئیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کرانے کیلئے کم سے کم کتنے دن چاہیے؟ جسٹس سردارطارق مسعود نے ریمارکس دیئے کہ آراوزکی تربیت ان کی استعدادبڑھانے کیلئے ہوتی ہے شیڈول کااس سے کیاتعلق؟باربار شیڈول سے کیوں پیچھے ہٹ رہےہیں؟تاریخ دیں کتنے دن پہلے شیڈول جاری کرناہوتاہے،شیڈول جاری کرے ساتھ ساتھ ٹریننگ چلتی رہے گی،لگتاہے کہ آپ بھی نہیں چاہتے کہ الیکشن وقت پرہوں،آراوزسسپنٹ ہوئے ہیں آپ کاتونوٹیفکیشن رہے گا،آراوزاورڈی آراوز کے نوٹیفکیشن کوآپ نے کیوں معطل کیا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےدرخواست آئی لگ بھی گئی، حکم امتناع دینے والا جج ہی لارجر بینچ کا سربراہ بن گیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا تھا کوئی بھی جمہوری عمل میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا،وکیل سجیل سواتی نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف ہے یہی ڈپٹی کمشنرز نظربندی کے احکامات جاری کرتے ہیں، درخواست گزار کا موقف ہے انہیں انتظامی افسران پر اعتماد نہیں ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل وہ کہیں گے عدلیہ پر بھی اعتماد نہیں ہے، ہائیکورٹ کے جج نے مس کنڈکٹ کیا،سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی،عدلیہ سے ایسے احکامات آنا حیران کن ہے، الیکشن پروگرام کب جاری ہونا تھا؟ کیا اٹارنی جنرل کا موقف سنا گیا تھا؟

متعلقہ خبریں