اہم خبریں

کاشتکاروں کیلئے خوشخبری، بلاسود قرضوں کی فراہمی کا اعلان

کاشتکاروں کیلئے خوشخبری، بلاسود قرضوں کی فراہمی کا اعلان

اسلام آباد (اے بی این نیوز) وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں زرعی شعبے کو سہارا دینے اور چھوٹے کاشتکاروں کی سہولت کے لیے ’’زرخیز سکیم‘‘ کے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق اس سکیم کے تحت ملک بھر کے تقریباً 750,000 چھوٹے کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے تاکہ زرعی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے اور کسانوں کے مالی مسائل کو کم کیا جا سکے۔

حکومت نے زرعی مشینری پر 5 ارب روپے کی سبسڈی مختص کی ہے جب کہ 12 ایکڑ سے کم اراضی رکھنے والے کسانوں کے لیے 1500 روپے فی ایکڑ سبسڈی دینے کی تجویز بھی دی ہے۔

کھاد کی قیمتوں میں استحکام اور کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے کھاد بنانے والی فیکٹریوں کے لیے 20 ارب روپے کا خصوصی پیکج بھی بجٹ کا حصہ ہے۔

زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے عالمی بینک کے تعاون سے 200 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کے لیے 3 ارب روپے جبکہ پرائم منسٹر یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر پروگرام کے لیے 20 ارب روپے رکھنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

دوسری جانب ملک بھر کے کسانوں نے بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل کا خاطر خواہ حل پیش نہیں کیا گیا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ڈی اے پی اور یوریا کھاد کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے سے زراعت کی لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کسان رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر کھاد کی قیمتوں میں کمی کرے اور زرعی شعبے کے لیے مزید عملی ریلیف کے اقدامات اٹھائے تاکہ ملکی زرعی پیداوار متاثر نہ ہو۔
مزید پڑھیں‌:وفاقی وزراء کے پیٹرول کوٹے کے معاملے پر بڑا حکومتی فیصلہ

متعلقہ خبریں