اہم خبریں

بڑی خبر،سگریٹ سمگلنگ کے مبینہ نیٹ ورک کا اہم روٹ بے نقاب

بڑی خبر،سگریٹ سمگلنگ کے مبینہ نیٹ ورک کا اہم روٹ بے نقاب

اسلام آباد/ڈیرہ غازی خان( ‌اے بی این نیوز) ایک حادثاتی کار ایکسیڈنٹ نے بلوچستان سے جنوبی پنجاب تک نان کسٹم پیڈ سگریٹ کی مبینہ سمگلنگ کے روٹ اور اس راستے پر قائم متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چیک پوسٹوں کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اے بی این نیوز ریسرچ سیل کی تحقیق کے مطابق ماہ اپریل میں بلوچستان سے پنجاب آنے والی کار نمبر BDU-946 تیز رفتاری کے باعث حادثے کا شکار ہو گئی۔ حادثے کے بعد سامنے آنے والی معلومات سے انکشاف ہوا کہ نان کسٹم پیڈ سگریٹ بڑی مقدار میں بلوچستان سے جنوبی پنجاب منتقل کیے جا رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی سے 440 کارٹن نان کسٹم پیڈ سگریٹ برآمد ہوئے، جنہیں بعد ازاں کسٹم حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس نے زخمی ڈرائیور کو ہسپتال منتقل کیا، جس کی شناخت شعیب اختر ولد رحمت، رہائشی سرکی روڈ، کوئٹہ کے نام سے ہوئی۔

تحقیق کے مطابق ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے راستے بلوچستان سے پنجاب آنے والی گاڑیاں متعدد چیک پوسٹوں سے گزرتی ہیں۔ غازی گھاٹ روٹ پر پنجاب پولیس، کسٹم، پٹرولنگ پولیس اور پاکستان رینجرز کی مشترکہ چیک پوسٹ موجود ہے، جبکہ تونسہ بیراج روٹ پر پنجاب پولیس، کسٹم، بارڈر پولیس کی کمبائنڈ چیک پوسٹ قائم ہے۔

اس کے علاوہ تھانہ صدر کوٹ ادو، تھانہ دائرہ دین پناہ، ہیڈ محمد والا چیک پوسٹ مظفر گڑھ، تھانہ صدر مظفر گڑھ، تھانہ سناواں اور دیگر مقامات پر بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چیک پوسٹیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود مبینہ طور پر نان کسٹم پیڈ سگریٹ بغیر کسی مؤثر چیکنگ کے بلوچستان سے جنوبی پنجاب منتقل کیے جا رہے ہیں۔

تحقیق میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ غازی گھاٹ اور کھر عربی کے دریائی پتن بھی سگریٹ سمگلنگ کے لیے متبادل راستوں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد تھانہ سناواں پولیس نے زخمی ڈرائیور کو طبی امداد فراہم کی، تاہم مبینہ طور پر اس سے مزید تفتیش یا نیٹ ورک کے دیگر ارکان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈرائیور سے مکمل تفتیش کی جاتی تو مبینہ سمگلنگ نیٹ ورک، اس میں استعمال ہونے والی گاڑیوں، سپلائی چین اور دیگر سہولت کاروں کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں۔

یہ واقعہ نہ صرف بلوچستان سے جنوبی پنجاب تک مبینہ سگریٹ سمگلنگ کے روٹ کو نمایاں کرتا ہے بلکہ راستے میں قائم متعدد چیک پوسٹوں کی مؤثریت اور نگرانی کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔
مزید پڑھیں‌:محسن نقوی نے ایرانی سپریم لیڈر کیلئے خصوصی خط عباس عراقچی کے حوالے کر دیا

متعلقہ خبریں