اسلام آباد: اسلام آباد کی انتظامی ساخت میں فوری تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال وفاقی دارالحکومت کے انتظامی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی کے لیے قانون سازی نہیں کی جا رہی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لینے کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے متعدد اجلاس منعقد کیے جن میں وفاقی دارالحکومت کے انتظامی معاملات کو مزید مؤثر بنانے کے مختلف ماڈلز پر غور کیا گیا۔
رانا ثناء اللہ کے مطابق زیر غور تجاویز میں اسلام آباد کو تین مختلف ٹاؤنز میں تقسیم کرنے کی تجویز بھی شامل تھی، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل میں ممکنہ اصلاحات پر غور ضرور جاری ہے لیکن فوری طور پر کسی منصوبے پر عملدرآمد کا ارادہ نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے بھی سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی اور انتظامی امور کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات رواں سال اگست یا ستمبر میں کرائے جا سکتے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بڑے شہروں کے انتظامی مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات اور وسائل منتقل کیے جائیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں بڑے شہروں کا انتظام مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کے حل میں آسانی پیدا ہوتی ہے۔
گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی ایک جماعت کی مکمل برتری کا تاثر درست نہیں۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کئی حلقوں میں مضبوط پوزیشن رکھتی ہے اور بہتر انتخابی نتائج کی توقع کر رہی ہے۔
اسلام آباد کی انتظامی ساخت کے حوالے سے رانا ثناء اللہ کے بیان نے ان قیاس آرائیوں کو وقتی طور پر ختم کر دیا ہے جن میں وفاقی دارالحکومت میں فوری انتظامی تبدیلیوں کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔















