اسلام آباد (نیوزڈیسک)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے جیل بھرو تحریک کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی رہنمااورکارکن میری کال کا انتظار کر یں، اپنے ملک کی آزادی کیلئے جان کی قربانی بھی دینا پڑی تو دونگا،امپورٹڈحکومت الیکشن سے خوفزدہ ہے،18دن گزرگئےمگر دونوں گورنرز نے الیکشن کی تاریخ نہیں دی،اگروقت پر الیکشن نہ ہوئے تو یہ غیرآئینی اقدام ہوگا،ہم نے آئین کے تحت ہی اپنی اسمبلیوں کو تحلیل کیا تھا، سب جماعتیں اکتوبر میں ایک ٹکٹ پر لڑیں پھر بھی ہار گئیں، ان کے پاس کوملک ٹھیک کرنے کاکوئی روڈ میپ نہیں،انہیں ملک کی بربادی کی کوئی فکر نہیں کیونکہ ان کے پیسے باہر پڑے ہیں،ہفتہ کو اپنے خطاب میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہاکہ مکہ اللہ ہمیں آزادی دیتاہے ، ہم کہتےہیں اےاللہ تیرےسواکسی کےآگےنہیں جھکوں گا،قوم اورانسان کبھی بڑےکام نہیں کر سکتا جب تک وہ آزاد نہیں ہوتا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ غلام صرف غلام بن سکتے ہیں امامت نہیں کرسکتے، غلام کی پروازاقبال کے شاہین کی نہیں ہوسکتی، اقبال کا شاہین تو تب بنتا ہے جب اپنی زنجیریں توڑ دیتا ہے، زنجیریں کھلتی نہیں توڑی جاتی ہیں،آزادی ملتی نہیں چھینی جاتی ہے۔معاشی حالات سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اکنامک سروے میں ہے 17 سال میں پہلی بار معیشت اوپر جارہی تھی، ورلڈ بینک کہتا ہے برصغیرمیں سب سے زیادہ روزگار پاکستان میں مل رہاتھا، کسانوں کو سب سے زیادہ پیسہ ہمارے دور میں ملا، ہمارے دور میں سب سے زیادہ ایکسپورٹس ہوئیں، ہم نے اپنے دور میں سب سے زیادہ ٹیکس جمع کیا۔انھوں نے اپنے دور حکومت کے حوالے سے بتایا کہ ہمارے زمانے میں پٹرول اور ڈیزل 150روپےلیٹرپرتھا، ہمارے دور میں ایک کلو آٹا 55 روپے کا تھا لیکن موجودہ حکومت نے نوماہ میں انہوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا،9ماہ میں مہنگائی کوانھوں نے کہاں پہنچادیا۔موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ یہ صرف اپنےکرپشن کیسز ختم کررہےہیں ، قوم اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتی ہے۔دہشت گردی کی جنگ سے متعلق سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک پر400ڈرون حملےہوئے، ڈرون حملوں میں ہزاروں بے قصور پاکستانی مارے گئے، قبائلی علاقے سے 35لاکھ لوگ بے گھر ہوئے، اربوں ڈالر کا نقصان ہوا،آج بھی ہمارے فوجی قربانیاں دے رہے ہیں، آج بھی وزیرستان اورافغانستان بارڈر کیساتھ فوجی شہید ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں کہتا رہا یہ ہماری جنگ نہیں ، مجھے طالبان خان کہا جانے لگا، مجھ پر الزام لگایا کہ دہشت گردوں کیساتھ ہوں، ہم چاہتے ہیں پاکستان کے فیصلے پاکستان میں ہوں، پاکستان کے فیصلے پاکستانیوں کے مفادات میں ہوں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں انصاف چاہئے جو انسانوں کو آزاد کرتا ہے، انصاف کمزور اور طاقتور کو قانون کے سامنے برابر رکھتا ہے۔موجودہ حکومت کے حوالے سے چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ حکمران ہم پررہے تو ملک اور قوم کا کوئی مستقبل نہیں، انہوں نے آتے ساتھ اربوں کےمقدمات ختم کرائے، انہوں نے10سال حکومت کرکےڈاکےمارے اور نیب ،ایف آئی اے پر اپنے لوگ بٹھا کر کیسز معاف کروالیے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے اعلان کیا کہ ابھی تومیں جیل بھروتحریک شروع کرنےلگاہوں، اپنےملک کی آزادی کیلئے جان کی قربانی دوں گا، ہمیں جیلوں میں ڈالنےسےنہ ڈراؤ، تمہارے پاس جیلوں میں70ہزارلوگ آتےہیں یہاں لاکھوں تیارہیں۔پی ٹی آئی چیئرمین نے وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ راناثنااللہ تم جوتیاری کررہے ہو کپتان اس سے زیادہ بہتر تیاری کر رہا ہے، میری پلاننگ بڑی سوچ سمجھ کرہورہی ہے، سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آپ کے سامنے وہ کپتان کھڑا ہے جو پاکستان ، ہندوستان کرکٹ تاریخ کا واحد کپتان ہے، میں ایسا کپتان ہوں جو ہندوستان جا کر ان کے امپائرز کے باوجود ان کی پھینٹی لگا کر آیا تھا۔















