اسلام آباد(نیوزڈیسک)بلوچ طلبہ کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی میں ملوث عناصر کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے ، کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا بھی مسترد، نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو بروز پیر 10 بجے ذاتی حیثیت سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طلب کرلیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نگران وزیراعظم بتائیں ان کیخلاف مقدمہ کیوں نا کیا جائے؟ یہ تو مہربانی ہے کہ میں نے 2ڈی آئی جیز کو طلب نہیں کیا۔ریاست خود ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہو تو پھر کون اس کیخلاف جائے گا؟
مزید پڑھیں:طاقور مغربی سسٹم آج را ت پاکستان میں داخل، کراچی میں بارش کا امکان ،محکمہ موسمیات
جسٹس اطہر من ا للہ ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگی کی سزا سزائے موت ہونی چاہیے۔ جبری گمشدگی میں ملوث افراد کو دو بار سزائے موت ہونی چاہیے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی۔
مزید پڑھیں :اورنج لائن میٹر و ٹرین لاہور اور ملتان میٹرو بس کے کرایوں میں 5روپے اضافے کی منظوری















