لاہور ہائیکورٹ، نوازشریف، مریم نواز،علیم خان سمیت متعدد امیدواروں کی کامیابی ،الیکشن کمیشن سے جواب طلب

لاہور(نیوزڈیسک)لاہور ہائیکورٹ ، مریم نواز اور علیم خان سمیت متعدد امیدواروں کی کامیابی کیخلاف درخواستوں پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب ۔ ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کیخلاف درخواستوں کی سماعت ۔ پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار نے مؤقف اختیار کیا کہ عبدالعلیم خان فارم 45 میں ناکام ، آر او کے فارم 47 میں عبدالعلیم خان کو کامیاب قرار دیدیا گیا، الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، آر او زکو درخواست کے بعد بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی، عدالت کامیابی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن سے دلائل طلب کر لیے۔ہائیکورٹ میں پی پی 169لاہور سے پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار میاں محمود الرشید نے ن لیگ کے ملک خالد کھوکھر کی کامیابی کا نوٹیفیکشن روکنے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ خالد کھوکھر فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں، لیکن ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں، عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے اور الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے۔عدالت نے درخواست پر دلائل طلب کر لیے۔ہائیکورٹ نے پی پی 170لاہور سے پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار عمیر خان نیازی کی درخواست پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں : مزید 26قومی وصوبائی نشستوں کے حتمی نتائج روک دیئے

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پی پی 170 لاہور سے فارم 45 کے مطابق کامیاب ہوا، مگر آر او نے حقائق کے برعکس فارم 47 جاری کیا، عدالت نئے سرے سے فارم 47 مرتب کرنے کا حکم دے۔ہائیکورٹ میں این اے 119لاہور سے پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار شہزاد فاروق کی مریم نواز کے انتخابی نتائج روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے یانہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔پی پی 145 سے یاسر گیلانی نے بھی لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کرتے ہوئے ن لیگ کے امیدوار سمیع اللہ خان کی کامیابی کو چیلنج کردیا۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے ہائی کورٹ میں پیش ہوکر بتایا کہ ابھی تک نتائج کے خلاف تمام درخواستوں پر سماعتیں الیکشن کمیشن کر رہا ہے، ایک سے دو روز میں الیکشن ٹریبونل بنا دیا جائے گا، سب دعوے کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس فارم 45 موجود ہیں، مگر دو تین درخواستوں کے علاوہ کسی بھی درخواست کے ساتھ مکمل فارم 45 نہیں لگائے گئے۔ن لیگ کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ جو امیدوار جیتے ہیں انکے پاس فارم 45 میں موجود اعداد و شمار کچھ اور ہوں ، ہارنے والے امیدوارں کے فارم 45 میں اعداد و شمار کچھ اور ہوں، ماضی میں بھی یہ ہوتا رہا کہ ہارنے والے امیدوار فارم 45 کے نمبر تبدیل کردیتے تھے۔