دبئی (اے بی این نیوز)عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو معمولی تبدیلی دیکھی گئی تاہم امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں تعطل کے باعث اہم مشرق وسطیٰ خطے سے تیل کی سپلائی میں خلل کے خدشات کے نتیجے میں قیمتیں مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن ہیں۔
جمعہ کو برینٹ کروڈ کے دسمبر کے سودے 4 سینٹ اضافے کے بعد 93.82 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے۔ گزشتہ سیشن میں برینٹ کی قیمت میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 6 سینٹ کمی کے بعد 86.78 ڈالر فی بیرل رہے، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس کی قیمت 2.3 فیصد بڑھی تھی۔
گزشتہ پانچ مسلسل کاروباری سیشنز کے دوران برینٹ کی قیمت 7 فیصد سے زیادہ جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 8 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہے، دونوں کی قیمتیں 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
مارکیٹ میں تیزی کی بنیادی وجہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے غیر واضح انجام کے باعث سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے سپلائی میں مسلسل کمی کا خدشہ ہے۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز میں تہران کی ناکہ بندی اور خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں نے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر کی ہے۔
بدھ کو آبنائے ہرمز سے صرف 9 بحری جہاز گزرے، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کی تیل کھپت کے برابر سپلائی اسی آبی گزرگاہ سے منتقل ہوتی تھی۔
مزید پڑھیں: گھر خریدنے یابنانے والوں کیلئے بڑی خبر،قواعد میں اہم تبدیلی















