اہم خبریں

سائفرکیس،حکمنامے میں جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ کے سائفر کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت منظور کرنے کے حکم نامے میں جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سائفر کیس کے حکم نامے میں جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ سوال یہ ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو انتخابات سے قبل گرفتار رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اس جواب کے لیے انتخابات کی پچھلی سات دہائیوں سے تاریخ دیکھنا ضروری ہے، پاکستان کے وجود میں آنے سے ہی ملک میں جمہوریت کو روندا گیا عمران خان ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی اور شاہ محمود قریشی اعلیٰ عہدے پر ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ میں کہا ہے کہ عمران خان اور شاہ محمود قریشی 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے خواہشمند امیدواران ہیں ملک میں حقیقی انتخابات کے لیے تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینا آئینی ضرورت ہے ۔اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل کورٹ کے نظریہ ضرورت سے ملک میں سیاسی انتقام کی بنیاد پڑی۔ملک میں وقت سے پہلے عہدوں سے ہٹائے گئے تمام وزرائے اعظم کو زیر حراست رکھا گیا، وزرائے اعظم کو نااہل کیا گیا۔جسٹس اطہر من اللہ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ عام انتخابات 2018 کی مثال موجود ہے جب ایک وزیراعظم کو نا اہل کر کے لیول پلیئنگ فیلڈ چھینی گئی، ایک سابق وزیراعظم کو پھانسی چڑھا دیا گیا اور اس کا جنازہ بھی پڑھنے نہیں دیا گیا، ملک کی آدھی زندگی کو جبری طور پر آمر کی حکومت میں رکھا گیا جس کو سزا بھی نا ہوئی۔اضافی نوٹ میں کہا گیا کہ درخواست گزاروں نے ریپ یا بچوں کے ساتھ زیادتی جیسا کوئی سنگین جرم نہیں کیا، سائفر ٹرائل چل رہا ہے اور درخواست گزاروں کو جیل میں رکھنا بظاہر ضروری نہیں، درخواست گزاروں کی ضمانت سے عوام اپنا حق رائے استعمال کر سکیں گے ۔

متعلقہ خبریں